پیٹرولیم سرچارج کے نام پر مہنگائی کا نیا طوفان سر اٹھانے کو تیار ہے۔ حکومتی منصوبے کے مطابق آنے والے 5 سال میں عوام کی جیبوں سے ہزاروں ارب روپے نکالنے کی تیاری مکمل کر لی گئی۔ آئی ایم ایف کو بھی عوام کا خون نچوڑنے کی یقین دہانی کرا دی گئی۔
پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھی مگرعوام پرمہنگائی کا بوجھ پھر بھی بڑھے گا۔ حکومت نے پیٹرولیم سرچارج کے نام پرعوام کے لیے سخت شکنجہ تیار کرلیا۔5 سال میں عوام سے 10 ہزار 780 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے۔
دستاویز کے مطابق یہ سلسلہ یہیں رکے گا نہیں۔ 2021 سے 2031 تک مجموعی بوجھ 16 ہزار 273 ارب روپے تک پہنچے گا۔ منصوبہ آئی ایم ایف کے سامنے رکھ کر عملدرآمد اور ٹیکس وصولی کا پکا وعدہ کرلیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ ہر سال عوام پر جی ڈی پی کے 1.2 فیصد کے برابر اضافی بوجھ ڈالنے کا پلان بھی سامنے آیا ہے۔
نئے بجٹ 2026-27 میں 1727 ارب روپے کی وصولی کا ہدف ہے۔اگلے مالی سال یہ بوجھ بڑھ کر 1915 ارب اور 31-2030 میں 2637 ارب تک پہنچے کا امکان ہے۔
گزشتہ پانچ برسوں میں بھی پیٹرولیم لیوی کے نام پر 4493 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ رواں مالی سال پیٹرولیم لیوی کا ہدف تو 1468 ارب رکھا گیا تھا لیکن اس کے مقابلے میں 1546 ارب روپے جمع ہونے کا امکان ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہر سال یہ بوجھ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔2020،21 میں میں اس مد میں 128 ارب روپے وصول کیے گئے تھے۔ اس سے اگلے سال یعنی 23-2022 میں 580 ارب، 24-2023 میں 1019 ارب اور 25-2024 میں یہ رقم 1220 ارب تک جا پہنچی۔ اضافی سرچارج عائد ہونے پر مہنگائی کی نئی لہر آئے گی۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر روزمرہ اشیائے ضرورت تک ہر چیز مزید مہنگی ہوجائے گی۔






















