امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطے کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ حوصلہ افزا گفتگو ہوئی، اب کوئی اسرائیلی فوجی بیروت نہیں جائے گا، جو اسرائیلی فوجی راستے میں تھے ان کو واپس بلا لیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہناتھا کہ اہم نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ سے بھی گفتگو ہوئی، حزب اللہ نے بھی تمام حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے، اسرائیل ان پر حملہ نہیں کرے گا، وہ اسرائیل پر حملہ نہیں کریں گے۔ ایران کے ساتھ بات چیت تیزرفتاری کے ساتھ جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ختم ہوئے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا، آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تو کوئی فکر نہیں، ایران سے نہیں سنا کہ وہ مذاکرات کو معطل کررہے ہیں، حقیقت میں ہم بہت زیادہ بات چیت کررہے ہیں، اس موقع پر خاموش رہنا زیادہ بہتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم جاکر وہاں بم گرانا شروع کریں، ہم خاموش رہ کر ناکہ بندی جاری رکھیں گے، ایرانی اچھے جنگجو نہیں لیکن بہت اچھے مذاکرات کار ہیں۔





















