نئے مالی سال کے بجٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت پر نئے ٹیکس کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر حکومتی ذرائع اور ماہرین کی جانب سے وضاحت سامنے آگئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں فہرست شدہ کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت پر کسی نئے ٹیکس کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے ٹیکس کی تجویز صرف پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کے شیئرز کی خرید و فروخت سے متعلق ہو سکتی ہے، جبکہ نیشنل کلیئرنگ کمپنی کے نظام سے ہٹ کر ہونے والی شیئرز ٹریڈنگ پر بھی بجٹ میں ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان زیر غور ہے۔
سرمایہ کار اور کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز پر پہلے ہی کیپٹل گین ٹیکس نافذ ہے، اس لیے فہرست شدہ کمپنیوں کے شیئرز پر نئے ٹیکس کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
دوسری جانب اے کے ڈی کے مطابق کیپٹل مارکیٹ میں شیئرز کی ٹریڈنگ پر نئے ٹیکس کے نفاذ کا امکان نہیں ہے۔ اے کے ڈی کا یہ بھی مؤقف ہے کہ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کے شیئرز پر بھی نئے ٹیکس کے نفاذ کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔




















