پاکستان تحریک انصاف نے بشریٰ بی بی کے علاج کا معاملہ سینیٹ میں اٹھاتے ہوئے ذاتی معالج کو اڈیالہ جیل میں بشری بی بی تک رسائی دینے اور بہتر علاج کے لیے انہیں شفا اسپتال منتقل کرنے کے مطالبات کئے ہیں ۔
سینیٹ اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ۔ ڈپٹی چیئرمین سیدال خان نے کہا کہ وہ قانون اور قواعد کے مطابق ایوان چلائیں گے۔ پہلےوقفہ سوالات پھر دیگر معاملات پر بات ہو گی ۔ بعد میں موقع ملنے پر پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹرعلی ظفر نےبشریٰ بی بی کے علاج کا معاملہ اٹھایا ۔انہوں نے کہا اچانک اطلاع ملی کہ بشریٰ بی بی کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔ ان کی مکمل اور شفاف میڈیکل رپورٹ اس سیشن کے مکمل ہونے سے پہلے ہمیں دی جائے ۔ ذاتی معالج کو اڈیالہ جیل میں ان تک رسائی ملنی چاہیے ۔ بہتر اور مکمل علاج کے لئے انہیں شفا ہسپتال منتقل کیا جائے ۔ سینیٹرز کا وفد اڈیالہ جیل بھیجا جائے جو ان کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لے ۔ اگر یہ مطالبات نہ مانے گئے تو ہم اجلاس چلنے نہیں دیں گے ۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی کہا کی بشریٰ بی بی کو علاج کی سہولیات دینی چاہییں ۔ سینیئر سیاستدانوں پر مشتمل کمیٹی بنا کر انہیں اڈیالہ جیل بھیجا جائے ۔ وہ کمیٹی جا کر دیکھے کہ بشری بی بی اور بانی چیئرمین کو جیل میں سہولیات مل رہی ہیں کہ نہیں ۔





















