پاکستان میں کرپٹو کرنسی کاکاروبار عروج پکڑ رہاہے اور اس صورتحال میں متعلقہ تاجر متحرک ہو گئے ہیں، کرپٹو کرنسی پر اسٹیٹ بینک کے بڑے فیصلے کے بعد ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ای کیپ کے وفد نے اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں کی ہیں، جس کے بعد ایکسچینج کمپنیز منی چینجرز کو کرپٹو کرنسی کے کاروبار کی اجازت ملنے کا امکان ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ای کیپ کے وفد نے وزیر مملکت خزانہ بلال اظہرکیانی اور کرپٹوکونسل کے سربراہ بلال بن ثاقب سے ملاقات کی ۔ وفد کی قیادت ای کیپ کے چیئرمین ملک بوستان اور جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے کی۔ ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ ملک میں ڈھائی سے تین کروڑ افراد چوری چھپے کرپٹو میں ٹریڈ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کا مالی حجم بیس ارب ڈالر سے زائد ہے۔ ایکسچینج کمپنیز سالانہ بارہ ارب ڈالر کا زرمبادلہ ملک لارہی ہیں۔ کرپٹو ٹریڈنگ کی اجازت دی جائے تو چوبیس ارب ڈالر سالانہ ملک میں آئے گا۔۔ ایکسچینج کمپنیز کو موجودہ بزنس میں ہی کرپٹو کرنسی کی ونڈو کھولنے دی جائے۔۔ چیئرمین ای کیپ ملک بوستان کا کہنا ہے کہ کرپٹو کونسل کی سربراہ بلال بن ثاقب نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔




















