آجکل عام لوگوں کی گفتگو کا زیادہ تر فوکس پٹرول ، ڈیزل کی قیمتیں، مہنگائی، حکومت کی پر فارمنس پر ہوتا ہے, لیکن اب اس میں موسم یا موسمیاتی تبدیلیاں بھی شامل ہوگیا ہے ۔۔موسموں کا کچھ پتا نہیں چل رہا ، کیسے ہوگئے ہیں ؟
بہار میں اچانک برسات، گرمی میں ایکدم سردی،لو کے موسم میں حبس، کہنے کو موسم سرما یعنی نومبر، دسمبر لیکن برائے نام سردی، پھر اچانک سردی آتی ہے تو وہ اتنی سرد ہوتی ہے کہ ہڈیوں تک میں گھس جاتی ہے، اور جنھوں نے اچھے وقتوں میں اچھی خوراکیں نہیں کھائی ہوئیں انکے تو بہت برے حال ہوجاتے ہیں ۔چونکہ لاہوریوں کا اپنا مزاج، کلچر اور زبان ہے تو بقول انکے " ہن او خوراکاں وی نئیں رہیاں"
خوراکوں سے انکی مراد بکرے ، گائے،بیل اور پتا نہیں کس کس کے پاوے، نلیاں ، اوجری، نہاری، دیسی مرغے کی یخنی،ہریسے ،بشیر دارلماہی کی رہو ، بام ،سنگاڑا مچھلی وغیرہ وغیرہ ۔سب کچھ کھا ڈکار جاتےہیں لیکن پھر بھی " ہن او خوراکاں وی نئیں رہیاں"، اب پتا نہیں وہ کن "خوراکوں"کی بات کرتے ہیں۔
خیر ہمارا موضوع خوراکیں نہیں بلکہ بدلتے ، بگڑتے موسم ہیں۔
لاہور میں اس دفعہ فروری کے آخری دنوں میں اتنی گرمی شروع ہوگئی کہ لوگوں نے رضائیاں، کمبل، سویٹر، کوٹیاں لپیٹ کر پیٹی میں رکھ دیں۔جین زی کو شاید "پیٹی" کانہ پتا ہو۔پیٹی ٹین یاTin سے بنا ،ٹاپ سے کھلنے والا ایک ایسا کنٹینر ہوتا ہے جس میں سٹینڈر سائز کے جین زی کے تین بوائز سیدھے لیٹ سکتے ہیں۔
پرانے وقتوں سے لوگ ان میں رضائیاں وغیرہ رکھتے تھے ، زیادہ تر گھروں میں یہ پیٹیاں ٹاپ فلور کے ایک پرانی چیزوں والے کمرے یعنی سٹور روم میں پڑی ہوتی ہیں۔
اگر آپ کے گھر میں پیٹی نہیں تو اسکا مطلب ہے آپ الٹرا ماڈرن ہیں ۔خیر آپ قدآمت پسند ہوں، موڈریٹ ماڈرن ہوں، الٹرا ماڈرن ہوں ، دیسی لبرل ہوں، ویسٹرن ہوں، ایشیا میں رہتے ہوں یا یورپ میں، یا پھر مڈل ایسٹ میں ۔ایک فیکٹر کامن ہے، وہ ہے موسمیاتی تبدیلیاں اور اسکے خوفنا ک اثرات ، اب سب بھگت رہے ہیں، ذرا ذہن میں وہ منظر لائیں کہ کیسے کلاؤڈ برسٹ میں امارات، نیو یارک، سوات میں گاڑیاں تنکوں کی طرح بہہ رہی ہوتی ہیں۔
گلوبل وارمنگ ، کلائمیٹ چینج ، نئے موضوعات نہیں، نہ صرف مغربی دنیا میں بلکہ ہمارے ہاں بھی پڑھے لکھے طبقوں کی ڈرائنگ روم گوسپس، این جی اوز کے سیمینارز میں یہ موضوعات دہائیوں سے زیر بحث ہیں لیکن اب اسکا ایک اور اینگل سامنے آیا ہے جو غور طلب ہے وہ یہ کہ ،کیا گوبل وارمنگ کی وجہ سے اگلی آئس ایج یا برفانی دور کی آمدمیں جلدی ہوسکتی ہے؟
اس پر کوئی حتمی بات نہیں کہی جاسکتی ، لیکن مختلف ڈیجیٹیل اور دیگر فورمزپر یہ ڈسکشن ہورہی ہے ۔جس میں کچھ سائنسی حوالوں سے ہے اور کچھ منطقی اور کچھ کا محور تاریخی اور عمومی حالات ہیں ۔کئی سال پہلے کچھ ماحولیاتی ایکسپرٹس کا کہنا تھا، 90 کی دہائی کا جوایورج ٹمپریچر ہے اگر وہ برقرار رہے تو آئس ایج جلدی نہیں آسکے گی۔مگر پھر آبادی کے تیزی سے بڑھنے، گاڑیوں اور صنعتی دھویں کے بے پناہ اخراج ، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور دوسرے عوامل کی وجہ سے کلائمیٹ چینج اور گلوبل وارمنگ کے معاملات گھمبیر ہوئے تو پھر اس تھیوری میں بھی کچھ تبدیلی آئی ۔
گلوبل وارمنگ کی وجہ سے برف کا تیزی سے پگھلنا، سمندروں میں میٹھے پانی کی مقدار کا بڑھنا، قطبین کو سست کرسکتا ہے جو گرم پانی کو دنیا مختلف حصوں تک پہنچاتا ہے ۔ سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کوئی فوری خطرہ نہیں ، مگر جو موجودہ گلوبل وارمنگ کا ٹرینڈ ہے اسکے نقصانات جیسے شدید گرمی، فلیش فلڈز، سمندر کی سطح میں اضافہ وغیرہ زیادہ فوری اور تباہ کن نوعیت کے ہیں۔
زمین کا موسم صرف ایک وجہ سے نہیں بدلتا،بلکہ کچھ تبدیلیاں قدرتی ہوتی ہیں،اور کچھ انسانوں کی وجہ سے،زیادہ تر سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی واقعی ہو رہی ہےاور اس میں انسانوں کا بڑا کردار ہے۔
لاسٹ آئس ایج تقریبا 12 ، 13 ہزار سال پہلے آئی تھی، دو تین چیزیں زمین کو ایفیکٹ کرتی ہیں ، ایک اس کا ایکسز آف روٹیشن ہے 26 ہزار سال میں چینج ہوتا ہے اور اس کا آدھا13 ہزار سال بنتے ہیں 13 ہزار سال میں ایک طرف سے دوسری طرف پلٹ جاتا ہے اس لحاظ سے 13 ہزار سال تقریبا اب شروع ہونے والے ہیں۔
میری ذاتی رائے میں گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج جیسے سیریس معاملات کو ایک ادارہ یا ادارے، کوئی ایک ملک یا خطہ حل نہیں کرسکتا ، اس کے لئے ایک کلیکٹو، گلوبل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس کو اتنا ہی سیریس لیا جائے جیسے کسی ملک کا ایٹمی دھماکے کرنے کا اعلان اور اس پر اقوام عالم کا ریسپانس۔
جب تک دنیا کے تمام ممالک اور انکے لیڈرز مل کر کوئی جوائنٹ ایکشن پلان نہیں بنائیں گے ، جتنے مرضی بلین ڈالرز فنڈز مختص کردیں ،کچھ اداروں یا این جی اوزیا کچھ ممالک کی آئسو لیٹڈ کوششوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ایک پیٹرن ہے ، Phenomenon ہے جس کا آغاز ہوچکا ہے اور اسکا انجام سب کی تباہی ہے۔
باٹم لائن: کیا ہم اگلی آئس ایج کی طرف تیزی سے جارہے ہیں؟ اس کا کوئی واضح جواب نہیں لیکن یہ واضح ہے کہ ہماری زمین، مستقبل قریب میں گرم ترین ہونے جارہی ہے ۔خود بھی اس پرغوروفکر اورتحقیق کریں ، اس بلاگ کو ہرگزکوئی تحقیقی مقالے نہ سمجھ بیٹھیں، آپکی عین نوازش ہوگی۔





















