بچپن میں جب کوئی،چھچھوری ، نیچ، گھٹیا اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت کرتے تو بڑے پنجابی کا ایک محاورہ کہا کرتے تھے ،تب کبھی اسکا مطلب سمجھ نہ آیا، نہ سمجھنے کی کوشش کی اب جب بچپن، نوجوانی اور جوانی پٹ گئی تو سمجھ آیا کہ جب کسی کم ظرف کو شہرت، عزت، دولت ملتی ہے تو وہ اپنی کلاس دکھانے سے باز نہیں آتا۔
یوٹیوبرنمبر1 : وہ نوید ، وہ ہمایوں ، وہ عتیق، وہ وہ ، دکھ زیادہ کہاں سے ملا۔۔۔۔۔
یوٹیوبر نمبر2 : کیوں آپ کو لگتا ہے کوئی آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتا، میرا پتی، سکینڈلز۔۔۔
میرا میڈم: جی،ہوں، فائن، کیوٹ ،ذاتی زندگی، ایٹس اوکے، تھینک یو، میری فلم سائیکو ۔۔
میرا میڈم کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں یوٹیوبرزنے اپنی کلاس ایکسپوز کردی، میر ا نے اپنی کلاس شو کردی۔
شہرت حاصل کرنا آسان لیکن برقرار رکھنا تنی ہوئی رسی پر چلنے کے مترادف ہے، ذرا ایک پاؤں غلط پڑا نہیں ، وہ گئے پاتال میں۔۔
شاعر کی زبان میں، مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے،زمیں کھا گھئی آسمان کیسے کیسے
آپ کس کھیت کی مولی ہیں۔
اس سے پہلے ہم اردو شاعری میں علامتی اور جدید شاعری کے سرخیل ثنا ءاللہ ثانی ڈار المعروف میرا جی کو ہی جانتے تھےلیکن اب میرا میڈم [ارتضی رباب] ہیروئن، فلم سٹار اور پروڈیوسر نے اپنا تعارف ایسے کروایا جیسے جیسمین اپنا تعارف کرواتی ہے ۔
غم ، غصہ ، فرسٹریشن زیادہ اسلئے بھی ہے کہ ایک تو اپنی کمیونٹی کے لوگ ہیں اور دوسرا اپنی جینڈر کے بھی۔اب کمیونٹی کا تو کچھ نہ کچھ کیا جاسکتا ہے، لیکن جینڈر کا کیا جائے؟ وہ تو نہیں بدلی جاسکتی۔
ویسے تو میرا یہ بلاگ میرے گھر والے بھی نہیں پڑھتے تو میرا میڈم کیسے پڑھیں گی، لیکن اگر ان کے جاننے والوں میں سے کوئی پڑھے تو ضرور میرا پیغام پہنچائے ، کہ ان سے ملنا چاہتا ہوں، انٹرویو وغیر ہ کے لئے نہیں، بلکہ انکی کمال استقامت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے۔
میں نے میرا میڈم کی کوئی فلم تو نہیں دیکھی کیونکہ میری جنریشن ، ضیائی جنریشن ہے مطلب ہمارا بچپن ، نوجوانی دور ضیاء کی نذر ہوگیا۔ جب سینما جانے کی عمر ہوئی تو اس وقت تک ہماری فلم پر مولاجٹ کا گنڈاسا پھر چکا تھا، یعنی فلم انڈسٹری کا زوال زور شور سے شروع تھا، ہم نے چند ایک پاکستانی فلمیں جو دیکھیں وہ پی ٹی وی پر لیٹ نائٹ ٹرانسمیشنر میں آدھے جاگتے ، آدھے سوتے اور آخر میں روتے ہوئے دیکھیں۔
جس میں زیاد ہ تر ندیم صاحب اور میڈم شبنم کی فلمز تھیں ۔ سینما میں ہالی وڈ کی ہی فلمیں دیکھیں یا پھر وی سی آر پر انڈینز۔۔امیتابھ بچن سے لیکر شاہ رخ خان اور ہمامالینی سے لیکر کاجل، ایشوریہ رائے سب کی فلمیں، شکلیں، سٹائل ایسے از بر تھے جیسےدو کا پہاڑہ یعنی 2 کا ٹیبل۔۔
پاکستانی فلم انڈسٹری کا تعارف اور فلم سٹارز کی پہچان ندیم ، شبنم، مولا جٹ ، نوری نت سے آگے نہ بڑھ سکی، مگر شوق بہت تھا اپنی پاکستانی فلمیں دیکھنے کا ، سو 90 کی دہائی میں کچھ نئے ہیروز، ہیروئنز آئے تو دوستوں سے ضد کرکے ایک فلم سینما جا کر دیکھی۔ سینما سے باہر نکلتے ہی ہمارے ایک ذرا ڈشکرا نما دوست نے کہا کہ آئندہ اگر تم نے پاکستانی فلم دیکھنے کا کہا تو تمھارے ساتھ وہ کرونگا جو ہیرو نے شفقت چیمہ کے ساتھ کیا۔
قصہ مختصر، میرا میڈم کے بارے زیادہ جانکاری وینا ملک کے مشہور زمانہ میمکری والے سکٹس ، خاص طور پر میرا میڈم کی انگریزی کی نقل وغیرہ کی وجہ سے ہوئی ۔
لیکن جس میرا میڈم کو ہم گذشتہ چند روز سےیوٹیوبرز کے ساتھ انٹرویوز میں دیکھ رہے ہیں وہ تو لیول ہی کچھ اور ہے ، میرا میڈم نے کمال اعتماداور مسکراہٹوں سے ان نام نہاد یو ٹیوبرز کو آؤٹ کلاس کردیا۔
میں نے آج تک ایسی برداشت اور حوصلہ والی کسی ہیروئن، فلم سٹار کبھی نہیں دیکھی ۔جس کے ماضی، ذاتیات پر براہ راست حملے ہورہے ہوں اور وہ ان حملوں کو اپنی مسکراہٹ سے پسپا کررہی ہو۔
میرا میڈم، تواڈی راتیں کوئی نئیں جمیا۔
Hats off to Meera Madam.





















