راولپنڈی پیرودھائی کے علاقہ میں جرگہ کے حکم اور غیرت کے نام پر 17 سالہ سدرہ کے قتل کیس اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ایڈیشنل سیشن جج نے لڑکی کے قتل کا فیصلہ دینے والے جرگہ سربراہ عصمت اللہ خان کی ضمانت منظور کر لی۔
ملزم کی ضمانت ایڈیشنل سیشن جج نادیہ اکرام ملک نے منظور کی جنھوں نے ایڈیشنل سیشن جج فرحت جبین رانا کے رخصت کے باعث درخواست ضمانت پر سماعت کی،عدالتی فیصلہ کے مطابق عصمت اللہ کا قتل میں کوئی براہِ راست کردار ثابت نہیں ہو سکا،ملزم صرف جرگہ میں شریک اور نمازِ جنازہ اور تدفین میں شامل تھا۔
عصمت اللہ کا کردار شریک ملزمان کے برابر ہے اس لیے وہ اصولِ یکسانیت کے تحت ضمانت کا حق دار ہے۔ملزم سے کوئی برآمدگی نہیں ہوئی۔ مزید جسمانی ریمانڈ یا تفتیش بھی درکار نہیں،لہذاملزم کو غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھنا غیر ضروری ہے۔عدالت کے مطابق مقدمے میں پہلے بھی شریک ملزمان عبدالسلام، سکندر، گل بادشاہ اور ظفراللہ کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔ملزم کے خلاف تھانہ پیرودھائی میں غیرت کے نام پر لڑکی کے قتل کا مقدمہ درج ہے۔






















