سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست اعتراضات عائد کر کے واپس کر دی ۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پی ٹی آئی وکلا کو بتا دیا کہ اب آپ کی ہمارے پاس ایسی کوئی درخواست زیر التوا نہیں جس پر کارروائی کی جا سکے۔
بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کیلئے سردار لطیف کھوسہ نے درخواست دائر کی تھی۔ رجسٹرار کے اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے حکمنامے میں واضح کر چکی کہ بانی پی ٹی آئی کی اپیلیں ہائیکورٹ میں زیر التوا ہیں، اگر انہیں کوئی مسئلہ ہو تو وہاں سے رجوع کر سکتے ہیں۔
درخواست ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کے ذریعے دائر نہیں کی گئی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور نعیم پنجوتھہ چیف جسٹس کی عدالت میں پیش بھی ہوئے۔ لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ درخواست جلد سماعت کیلئے مقرر کی جائے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس کی جا چکی ہے۔ ایسی کوئی درخواست زیر التوا نہیں جس پر کارروائی کی جا سکے۔ عدالت نے علاج کا حکم جاری نہیں کیا تھا بلکہ حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی، جبکہ انسانی بنیادوں پر میڈیکل چیک اپ بھی کروایا جا چکا ہے۔
بیرسٹر گوہر کی چیف جسٹس سے ملاقات
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس یحیی آفریدی سے ملاقات کی۔بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کی درخواست پر گفتگو کی گئی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی حکم واضح ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ہو تو ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے۔ہائی کورٹ میں اپیلیں زیرالتوا ہیں مداخلت نہیں کر سکتے۔
میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر بولے بانی کی صحت کا معاملہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔بانی پی ٹی آئی کی صحت کا کسی کو علم نہیں ان کی آنکھ کیسی ہے وہ کیسے ہیں کچھ پتہ نہیں۔ چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ اس معاملے کو فوری طور دیکھیں یہ کوئی عام معاملہ نہیں۔






















