صدرمملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ افغان رجیم دوحامعاہدے میں کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کررہی ہے، سرحد پار سے دہشتگردی کے خلاف برداشت کی حد ختم ہوچکی۔ اقدامات عوام کو سرحدپار دہشتگردی سے محفوظ بنانے کے حق دفاع پرمبنی ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پیغام میں صدرمملکت نے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کی برداشت اپنی حد کو پہنچ چکی، پاکستان کی حالیہ کارروائیاں اپنے عوام کے دفاع کے فطری حق کے تحت کی گئیں، سرحد پار دہشت گردی کے خلاف بارہا خبردار کیا مگر نظر انداز کیا گیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ٹویٹ میں اپنے 8 فروری کے بیان کا حوالہ بھی دیا، کہا 8 فروری کو اپنے بیان میں پاکستان نے عالمی برادری کو متنبہ کیا تھا۔ دہشت گرد کو سرحدوں پار سہولت دی جائے تو نتائج دنیا کے بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان نے بتایا تھا کہ طالبان حکومت نے 11 ستمبر سے بھی بدتر حالات کردیئے، کابل میں موجود خودساختہ رجیم کو اقوام متحدہ بھی تسلیم نہیں کرتی، یہ انتہائی تشویش ناک ہے کہ افغانستان دوحا معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی مگر افغان سرزمین کو دہشت گرد عناصر کے استعمال کے لیے بدستور کھلا چھوڑا ہوا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ سلامتی کونسل کی ٹیم کی حالیہ رپورٹ نے بھی پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی توثیق کی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی دہشت گرد گروہ افغانستان میں بدستور موجود ہیں، ان گروہوں میں داعش خراسان، ٹی ٹی پی، القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ شامل ہیں، جماعت انصار اللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ بھی افغانستان میں ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ بعض گروہ افغانستان کو بیرونی حملوں اور منصوبہ بندی کے لیے اب بھی استعمال کررہے ہیں، واضح ہوتا ہے کہ تنظیموں کی سرگرمیاں پڑوسیوں خصوصاً پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں، افسوس ہے مسلسل سفارتی رابطوں کے باوجود افغان حکام نے کچھ نہیں کیا، پاکستان نے ان حالات کے باجود ایک طویل عرصے تک تحمل کا مظاہرہ کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے اپنی کارروائیاں سرحدی علاقوں میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں تک محدود رکھیں، پاکستان پوری طرح آگاہ ہے کہ دہشت گردی کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور سرپرست کہاں ہیں، اگر پاکستان میں خونریزی جاری رہی تو ذمہ دار عناصر ہماری پہنچ سے دور نہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے انکار یا دوغلے پن سے امن قائم نہیں رہ سکتا، پاکستانی شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین اور غیر متزلزل ترجیح ہے۔





















