ایپسٹین فائلز کے دباؤ نے مودی حکومت کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا۔ جبکہ بھارتی اپوزیشن نے حالیہ پاکٹ ٹریڈ ڈیل کو واشنگٹن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
کانگریس کے مطابق امریکی بیانات نے مودی کی پسپائی پر مہر ثبت کر دی۔ٹرمپ انتظامیہ نے روسی تیل کی خریداری پر بھارت کو 25 فیصد اضافی ٹیرف سے بلیک میل کیا۔ نریندر مودی نے بیرونی دباؤ پر روسی تیل کی خریداری کم کر دی۔ کانگریس نے اسے قومی مؤقف سے کھلا انحراف قرار دیا۔
اپوزیشن کا کہنا ہے یہ سیزفائر نہیں، مکمل سرنڈر ہے۔ بھارتی معیشت اور سفارت کاری کو طویل المدتی نقصان کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے اعلانات نے بھارت کی کمزور سفارتی حیثیت واضح کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق خودمختاری کا دعویٰ امریکی پابندیوں کے سامنے زمین بوس ہو چکا ہے۔ بھارتی خارجہ پالیسی حقیقت پسندی کے بجائے ہندوتوا بیانیے کی قیدی بن چکی ہے۔






















