وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ واقعے کو قتل کے مترادف قرار دے دیا۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 4 افسران کی گرفتاری اور دو افسران کو نوکری سے برطرف کرنے کا حکم دیدیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت لاہورمین ہول واقعے پر اعلیٰ سطح اجلاس میں بھاٹی گیٹ واقعے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں مریم نواز نے افسران کی سرزنش کی کہا ایل ڈی اے، نیسپاک اور کنٹریکٹر سب نے غفلت برتی۔ لاہور میں تعمیراتی کام شہر کی خوبصورتی کیلیے ہے لوگوں کو مارنے کیلیے نہیں۔ واقعے پر کمشنر لاہور بھی اتنا ہی قصور وار ہیں جتنا ایل ڈی اے ہے۔ معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ ہر مرحلے پر مجرمانہ غفلت برتی گئی۔
مریم نواز نے کہا کہ خاتون بچی سمیت مین ہول میں گر گئی اور الٹا اس کے شوہر کو ہی پکڑ لیا گیا۔ بجائے اس کے متاثرہ خاندان کو دلاسہ دیا جاتا ان کو تھانے لے گئے۔ خاتون کے شوہر کو تھانے میں بند کر کے شدید زیادتی کی گئی اس پر مجھ سمیت سب جوابدہ ہیں۔ ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہیں کہیں نوکری نہیں ملنی چاہیے۔
مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ ساڑھے سات بجے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج ہے۔ دومنٹ بعد ریسکیو کو کال کی گئی۔ سب کام بند کرکے چلے گئے۔ مین ہول کو کھلا چھوڑ دیا گیا۔ جنہوں نے اس جگہ کو کھلا چھوڑا کیا ان کے گھر میں بچے نہیں؟ یہ بھی کہا سیف سٹی ہیڈ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ کوئی واقعہ ہوا۔ میں نے کال کی تو انہیں پتہ چلا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے لے کر متاثرہ خاندان کو دینے کا حکم دیدیا۔ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندان کو گاڑی بھی دی جائے۔
دوسری جانب ماں بیٹی کی لاشیں ملنے کےبعد پروجیکٹ پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کردیا گیا۔ واقعے کا مقدمہ درج کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پوسٹمارٹم کے بعد ماں بیٹی کی لاشیں ورثا کے حوالے کردی گئیں۔
واضح رہے کہ لاہورمیں انتظامیہ کی لاپروائی اورغفلت کی انتہا کردی۔ فیک نیوزقراردیا گیا واقعہ حقیقت نکلا۔ بھاٹی گیٹ کےعلاقے میں ماں بیٹی مین ہول میں گرگئیں۔ اداروں بے حسی دکھاتے رہے اور واقعے کوجھوٹ قراردیتے رہے۔ واسا اورریسکیودونوں تردید کرتے رہے۔ بوکھلاہٹ میں بیانات بدلتے رہے۔
انتظامیہ اورپولیس کی طرف سے معاملہ دبانے کی کوشش کی گئی، اطلاع دینے والوں کو ہی پکڑ لیا، شوہر اور دو بھائیوں کو چھ گھنٹے حراست میں رکھا۔ خاتون کی لاش ملنے پرچھوڑا۔
پولیس نے بعد ازاں سعدیہ کے والد ساجد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا، مقدمہ پراجیکٹ میجراصغرسندھو ، سیفٹی انچارج دانیال ، سائیٹ انچارج اینڈ نوازکے خلاف درج کیا گیا، مقدمہ دفعہ 322 کے تحت درج کیا گیا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے مین ہول کھلا چھوڑ کر غفلت و لاپرواہی کی۔





















