اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس کمیٹی آئی سی ٹی کے اجلاس میں ماڈل جیل اسلام آباد کی تعمیر پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ 85 فیصد کام مکمل ہونے پر کمیٹی نے جیل ہر صورت 30 جون تک مکمل کرنے اور یکم جولائی سے قیدیوں کی منتقلی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں جرائم کی بڑھتی شرح، جیل اصلاحات اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی اہم ہدایات جاری کی گئیں۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ماڈل جیل اسلام آباد کی تعمیر پر پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ 85 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ ماڈل جیل ہر صورت تیس جون تک مکمل کی جائے جبکہ یکم جولائی سے قیدیوں کی مرحلہ وار منتقلی شروع کی جائے۔ جیل اسٹاف کی تعیناتی اور دیگر انتظامات بروقت مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
کمیٹی نے وزارت داخلہ اور وزارت خزانہ کو ماڈل جیل سے متعلق معاملات حل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں نیشنل پریزن ریفارم ایکشن پلان پر غور کرتے ہوئے جیل اصلاحات کے لیے مؤثر فریم ورک کو ضروری قرار دیا گیا۔
چیف جسٹس نے اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زیادتی کے مقدمات میں فرانزک لیب رپورٹس کو لازمی قرار دینے، تفتیشی افسران کی تربیت بہتر بنانے اور ضلعی عدلیہ کو مقدمات جلد نمٹانے کی ہدایت کی۔ کمیٹی کو سیف سٹی اور سی سی ٹی وی نگرانی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں عدالتوں، ججز کی رہائش گاہوں اور جوڈیشل کمپلیکس کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے، ایمرجنسی ایگزٹ اور الارم سسٹم نصب کرنے اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کی بھی ہدایت دی گئی۔






















