سندھ حکومت نے سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقات کرانے کا اعلان کردیا۔
سینئر وزیرشرجیل میمن کا کہنا ہے کہ جوڈیشل انکوائری کےلیے چیف جسٹس کو خط لکھ رہے ہیں۔ کسی کی بھی غفلت ہوسزا سے نہیں بچے گا ۔ گل پلازہ کی انتظامیہ کےخلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی ۔
شرجیل میمن میں رپورٹ میں کوتاہیوں کا اعتراف بھی کرلیا ۔ واٹربورڈ کی جانب سے پانی کی فراہمی میں بھی تاخیر تسلیم کرلی، بتایا فائربریگیڈ کے پاس آگ بجھانے کے آلات ناکافی تھے۔
سانحہ گل پلازہ کی 21 صفحات کی انکوائری رپورٹ کے مطابق آگ فلاور اینڈ گفٹ شاپ سے لگی، دکان مالک نعمت اللہ دکان 11 سالہ بچے کے حوالے کر کے چلا گیا، ماچس جلانے سے مصنوعی پھولوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ آتش گیر مواد کے باعث آگ نے تیزی سے پوری عمارت کو لپیٹ میں لیا۔
رپورٹ کے مطابق فلور چوکیدار نے آگ کے 5 منٹ بعد بجلی بند کی، غیر محفوظ برقی نظام بھی آگ کی شدت بڑھنے کی وجہ بنا، واقعے کے وقت گراؤنڈ فلور کے 3 سے 4 گیٹس کھلے تھے، گراؤنڈ فلور پر آگ کے باعث سیڑھیوں میں دھواں بھر گیا، راستے بند ہونے سے متعدد افراد شاپس میں محصور ہو گئے۔






















