متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی معاندانہ فوجی کارروائی میں اپنی فضائی حدود، سرزمین یا سمندری حدود کے استعمال کی اجازت نہ دینے اور اس سلسلے میں کوئی لاجسٹک مدد فراہم نہ کرنے کا پابند ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق یو اے ای نے اس یقین کا اعادہ کیا کہ مذاکرات کو فروغ دینا، کشیدگی میں کمی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور ریاستوں کی خودمختاری کا احترام موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے بہترین بنیادیں ہیں۔
یو اے ای نے سفارتی ذرائع سے تنازعات حل کرنے کی ضرورت پر مبنی اپنے نقطہ نظر پر زور دیا ہے۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی لڑاکا طیارے اور ساز و سامان مشرق وسطیٰ پہنچ چکے ہیں تاکہ کئی روز تک جاری رہنے والی جنگی تیاریوں کی مشق کی جا سکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے قبل ازیں یہ واضح کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتوں کے دوران کئی بار ایران کے خلاف فوجی آپشن کا اشارہ دیا تھا لیکن ان کے بقول ایرانی حکام کی جانب سے مظاہرین کی سزائے موت روکے جانے کے بعد انہوں نے اپنے بیانات کی شدت میں کمی کر دی ہے۔






















