این اے 4 سوات سے آزاد رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کی اپنے خلاف نااہلی ریفرنس میں دو ہفتوں کی مہلت کی استدعا الیکشن کمیشن نے مسترد کردی۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ سہیل سلطان نےالیکشن کمیشن سے دو ہفتے کا وقت دینے کی استدعا کردی۔ کہا مجھے وکیل کرنے کیلئے وقت چاہئیے جس ہر چیف الیکشن کمشنر نے استدعا کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پہلے ہی ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے باعث بہت تاخیر ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ریفرنس پر مقررہ وقت میں فیصلہ کرنا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سہیل سلطان کو وکیل کرنے کیلئے ایک روز کا وقت دے دیا ۔سماعت ایک روزکے لیے ملتوی کردی گئی۔
واضح رہے کہ سوات سے ایم این اے منتخب ہونے والے سہیل سلطان نے اسپیکر کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ریفرنس اور الیکشن کمیشن کے نوٹس کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
ریفرنس سوات کے شہری نصراللّٰہ خان کی طرف سے جمع کرایا گیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ سہیل سلطان نے اپنی سرکاری ملازمت پر الیکشن کمیشن میں جھوٹ بولا۔ ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ سہیل سلطان الیکشن سے پہلے بطور ڈپٹی اٹارنی جنرل خیبر پختونخوا کام کرتے رہے۔ کوئی سرکاری ملازم ملازمت کے ختم ہونے کے دو سال بعد تک الیکشن نہیں لڑسکتا۔






















