معاون خصوصی اطلاعات کے پی کے شفیع جان نے کہا ہے کہ پہلےدن ہمارا جو موقف تھا آج بھی اسی پر قائم ہیں، کےپی میں کسی بھی ملٹری آپریشن کوسپورٹ نہیں کریں گے، زبردستی کسی سے نہ ہو، افغان مہاجرین کو عزت سے واپس بھیجا جائے جو جانا چاہتے ہیں۔
معاون خصوصی اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے سماء نیوز کے پروگرا م ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اختیار میں نہیں ہے فیصلہ کہیں اور سے ہونا ہے، صوبائی حکومت کسی آپریشن کو سپورٹ نہیں کرتی، صوبائی حکومت بند کمروں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتی ۔
ان کا کہناتھا کہ پہلےدن ہمارا جو موقف تھا آج بھی اسی پر قائم ہیں، کےپی میں کسی بھی ملٹری آپریشن کوسپورٹ نہیں کریں گے، افغان مہاجرین کے حوالے سے وفاق کی پالیسی پر تحفظات ہیں، زبردستی کسی سے نہ ہو،عزت سے واپس بھیجا جائے جو جانا چاہتے ہیں، یہ لوگ ہی افغان مہاجر کو شہریت دیتے ہیں اور پارٹی ٹکٹ دیتے ہیں، ان کو حیات آباد سے جتوا دیتے ہیں،تیمور سلیم سے جتوا دیتے ہیں، افغان مہاجرین کے کوئی کیمپ ہم نے خالی نہیں کروائے، مہاجرین کو واپس بھیجنے کا کرایہ بھی ہم دے رہے ہیں۔
رانا ثناء اللہ
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہتری کے راستے میں بانی کی ذات حائل ہے، پہلےسیاسی قوتوں میں اختلاف تھا،90کی دہائی میں شدیدتھا، انہوں نے میثاق جمہوریت کیا تو ان صاحب کو لایا گیا، 2011 سے 18 تک انہوں نے یہی سب کچھ کیا، ان کو برسر اقتدار لانے کے بعد شہباز شریف نے کہا تھا ہم سے زیادتی ہوئی ہے، انہوں نے کہاآرٹی ایس بٹھا کر ہماری 40 سیٹوں کو آپکو دے کر وزیراعظم بنایا گیا، شہباز شریف نے کہا تھا ہم ملک کے مفاد کے لیےآپ کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، انہوں نے کہا تھا میثاق معیشت کریں،ملک کے حالات ٹھیک نہیں۔
اس کے بعد بلاول اٹھے انہوں نے شہباز شریف کی بات کو انڈورس کیا، بلاول کا ایک جملہ مشہور ہوا تھا وہ یہ تھا کہ "بانی قدم بڑھاو ہم تمہارے ساتھ ہیں"، اس کے بعد بانی نے جو تقریر کی وہ آج تک اسی پر قائم ہیں، انہوں نے کہا تھا میں آپ کو چھوڑوں گا نہیں جیلوں میں ڈالوں گا، اسی پرآج تک وہ قائم ہیں، وہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہیں کہ دوبارہ وزیراعظم بناو، وہ چاہتے ہیں کہ اقتدار میں آکر سب کو ختم کرو۔
بانی سیاسی استحکام اور سیاسی مذاکرات کے لیے تیار نہیں، بانی پی ٹی آئی مفاہمت کرنے کو تیار نہیں ہے، ان کا مقصد ہی فتنہ فساد اور انارکی ہے، آرمی چیف کی تعیناتی کو روکنے کیلئے لانگ مارچ ہوا تھا، کہا جا رہا ہے فیض حمید 9 مئی اورلانگ مارچ ماسٹر مائنڈ تھے، دونوں واقعات میں فوج کے اندر بھی معاملات کو بگاڑنے کی سازش کی گئی، اگر ایسا ہوا ہے تو یہ تو بہت بڑا جرم ہے، 9مئی واقعات میں فوج میں بغاوت کی ناکام کوشش کی گئی، اس میں اگر مزید ثبوت سامنےآتےہیں تو پھر یہ بغاوت کا کیس ہے، اگراس میں فیض حمیدشامل ہیں تو پھر انہوں نے کسی کے ساتھ مل کر بھی کیا ہو گا، میرا خیال ہے بانی کے علاوہ پی ٹی آئی کے کچھ اور لوگ بھی شامل ہوں گے۔
کسی طور پر پاکستان فلسطین کے مفاد کے خلاف نہیں جا سکتا، فوج وہاں موجود ہونےکی صورت میں فلسطینیوں کے لیے سہارا ہو گی ، وزیراعظم نے غزہ امن منصوبے کو ویلکم کیا تھا، امن منصوبے پر ترکیہ ،انڈونیشیا کو بھی دعوت دی گئی ، غزہ امن معاہدے پر عمل درآمد ہونا ہے، معاہدے کے مطابق اسرائیلی فوج دستبردار ہو گی، معاہدے کے مطابق غزہ میں ری ہیب کا عمل ہونا ہے، یواین کے تحت پاکستانی فوج کو پہلے بھی ذمہ داری ادا کرنے کا تجربہ ہے، پاکستان کی فوج پروفیشنل ہے، جہاں بھی فوج کوذمہ داری ملی ہے بہتر انداز سے نبھایا ہے۔
ایک معاہدہ ہو چکا ہےاس میں ایس اوپیز کی کوئی بات نہیں، پاکستان کی فوج ہونے سے فلسطینی بھائیوں کو فائدہ ہو گا، ہمیں ان کی بہتری کے لیے جانا پڑے تو جانا چاہیے، 2سال وہاں ظلم ہوا ہے،ہمارے لوگوں نے ریلیاں نکالیں مگر ظلم نہ روک سکے، وہ ظلم اس معاہدےکی صورت میں کم ہوا ہے، یہ معاہدہ عرب ممالک نے مل کر کیا ہے، ہمیں ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، وہ معاہدہ حماس نے خود کیاہے، ہم تو غیر مسلح تب کریں جب ہم انفورس کریں ، یہ ان کاآپس میں معاہدہ ہوا ہے،فلسطین اور اسرائیل کو اس پرقائم رہنا چاہیے۔
اسرائیل تھوڑی گڑبڑ کر رہا ہے، پاکستانی فوج جائے گی تویہ فلسطینیوں کی بہتری ہے، معاہدے پر عمل ہونا چاہیے، حماس نے خود تسلیم کیا ہے وہ غیرمسلح ہوں گے، اسرائیل نے خود حدود کا تعین کیا ہے تو پھر ان چیزوں پر عمل ہونا چاہیے، دونوں فریقین کو معاہدے پر عمل کرنا چاہیے، ہمیں خود سے بیانیہ نہیں بنانے چاہیے، معاہدے پر جو فریق عمل نہیں کرے گا وہ تناو کا ذمہ دار ہو گا، برادر ممالک نے اپنی خواہش سے معاہدہ کیا ہے ہمارے کہنے پر نہیں کیا۔
فوج کو بھیجنے سے پہلے وزیراعظم اس معاملے کو کابینہ کے لیول لائیں گے پارلیمنٹ میں بھی لا سکتےہیں، ہم تو معاہدے کرنے جا ہی نہیں رہے تھے، اس معاہدے کو طے ہم نے نہیں کیا تھا۔



















