چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ صوبہ بنانے کے لئے پہلے پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ قرارداد پر عمل کریں، سینیٹ کے کمیشن نے قرار دیا تھا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنایا جائے ، پہلے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے اتفاق رائے پر عمل کریں پھر آگے چلیں ، زیادہ صوبے بنانے کی بات کرکے پہلے کی اتفاق رائے کو خراب کرنا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافی نے بلاول بھٹو زرداری سے سوال کیاکہ کیا آپ پنجاب کی تقسیم چاہتے ہیں؟ جس پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد کی بات کی ہے،پنجاب کی تقسیم کا سوچ بھی نہیں سکتا، پنجاب میں ابھی بلدیاتی نظام پر قانون بنایا گیا، سندھ میں ایسا کرتا تو بہت ردعمل آتا، لوگوں نے الٹا ٹانگ دینا تھا، آپ پنجاب میں زیادہ رہا کریں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ہی میرا پنجاب میں آنا ہضم نہیں ہوتا، میں تو کہتا ہوں یہ سندھ آیا کریں، میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ سندھ میں اپنا گورنرلگائیں،جو ابھی تک نہیں لگایا، 20صوبے بنانے سے پہلےجہاں نئے صوبے بنانےسےمتعلق اتفاق رائے موجود ہےوہاں بنائیں۔
صحافی نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی پر پابندی کی بات کی جارہی ہے،آپ کی کیا رائے ہے؟ بلاول بھٹو زرداری جواب دیا کہ سیاست میں آگے بڑھنے کا مفاہمت ہی بہترین طریقہ ہے، جھگڑے والےماحول میں رہے تو معاملہ خراب رہے گا،بہترحالات پیدا ہونے چاہئیں، بانی پی ٹی آئی سے ذاتی اختلاف نہیں،ان کا طریقہ غلط ہے، مفاہمت ہو گی تو سب کو ایک ہونا پڑے گا تاکہ سیاسی استحکام کی طرف بڑھیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے ماحول میں رہے کہ ایک دوسرے سے بات نہ کر سکیں اور پھر ایک صوبے کے حالات خراب ہوں گے اور بھی مسائل ہونگے، جس صوبے میں پی ٹی آئی کی ذمہ داری ہے وہاں انکی حکومت ناکام ہوچکی، پیپلز پارٹی جب قدم بڑھانے کےلئے تیار ہوتی ہے تو پھر دوسری طرف حالات خراب ہوجاتے۔
صحافی نے پوچھا نوازشریف سے کوٹ لکھپت ملنے گئے کیا اڈیالہ بھی جائیں گے؟ بلاول بھٹو زرداری نے کہا جی نوازشریف سے ملنے گیا تھا لیکن انہوں نےباہرنکلتے ہی ایک جلسے میں ہمارے پر حملہ کر دیا۔
ان کا کہناتھا کہ ایک پارلیمنٹ سے دو ترامیم کافی ہیں، آئین ایسی دستاویز نہیں جسے بار بار تبدیل کیا جائے، عوام ووٹ دیں گے تو ضرور وزیراعظم بنوں گا، اتحادیوں کو سیاسی اسپیس لینی پڑتی ہے۔ ان حالات میں وزیراعظم بننے کے سوال پر بلاول نے کانوں کو ہاتھ لگا دیے ۔



















