ملک میں آٹھ سال سے سیلاب سے بچاؤ کے پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، لاگت 500 سو ارب اضافے سے 824 ارب پر پہنچ گئیں، نظرثانی شدہ فلڈ پروٹیکشن پلان منظوری کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کو ارسال کر دیا گیاہے ۔
نظرثانی شدہ چوتھے فلڈ پروٹیکشن پلان کی تفصیلات سما کو موصول ہو گئیں ہیں، دستاویز کے مطابق نظرثانی شدہ فلڈ پروٹیکشن پلان میں 132ارب روپے کے نئے منصوبے شامل ہیں، مجموعی طور پر پلان میں 746ارب سے زائد کے صوبائی منصوبے جبکہ وفاقی سطح کے 77ارب سے زائد کے منصوبے بھی شامل ہیں ۔
فلڈ پروٹیکشن پلان کا پہلا فیز جون 2023 کو ایکنک سے منظور ہوا تھا، پہلا فیز 194ارب کی لاگت سے 5 سال میں مکمل ہونا تھا ، فنڈز اور صوبوں کی عدم دلچسپی کے باعث پہلا فیز بھی مکمل نہ ہوسکا، مشترکہ مفادات کونسل نے مئی 2017 میں فلڈ پروٹیکشن پلان کی منظوری دی تھی ، منصوبے میں ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو آئندہ سیلاب سے بچانے کے اقدامات شامل تھے، منصوبے کے تحت فلڈ فورکاسٹنگ اور ارلی وارننگ سسٹم نصب کئے جانے تھے ۔
نہروں اور پلوں پر ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کی جانی تھی، منصوبے میں واٹرشیڈ مینجمنٹ، سیلابی خطرات کی زوننگ بھی شامل تھی، 80 لاکھ ایکڑ زرعی زمین سیلاب سے بچانے کے اقدامات کئے جانے تھے، 22 لاکھ گھروں اور 76 اسکولوں کی سیلاب سے حفاظت یقینی بنانی تھی، 223 ٹیوب ویلز اور 64 دیہاتوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات بھی پلان کا حصہ ہیں۔
331 کلومیٹر کی سڑکوں اور 3825 کسانوں کیلئے حفاظتی اقدمات بھی شامل تھے، چوتھا فلڈ پروٹیکشن پلان 332 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جاناتھا، منصوبہ 20 فیصد فنڈنگ مقامی اور80 فیصد فارن فنڈنگ سے مکمل ہونا تھا، 20 فیصد مقامی فنڈنگ میں 50 فیصد وفاق اور 50 فیصد صوبوں نے دینا تھی۔



















