سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم کے اجلاس میں وزیرِ تعلیم، وزیرِ مملکت اور سیکرٹری تعلیم کی غیر حاضری پر سخت برہمی کا اظہارِ کا اظہار کیا گیا، چیئرپرسن نے کہا کہ ہماری کمیٹی میں نہ وزیرِ تعلیم آتے ہیں اور نہ ہی اسٹیٹ منسٹر، یہ انتہائی غیرذمہ دارانہ رویہ ہے۔
سینیٹربشریٰ بٹ کی زیرصدارت کمیٹی اجلاس میں یونیورسٹی آف بزنس،سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل دوہزار پچیس پر غور کے دوران چیئرپرسن نے مشروط اجازت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ایچ ای سی کے تمام تقاضے پورے کرنے کی صورت میں منظوری دی جا سکتی ہے۔
چیئرپرسن نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ملک میں تقریباً ستر ہزار طلبہ کی ڈگریاں تاحال ایچ ای سی سے اٹیسٹ نہیں ہو سکیں۔ بعد ازاں بل پر ووٹنگ کرائی گئی مگر اراکین کی تعداد پوری نہ ہو سکی۔ سینیٹر عبدالشکور نے اس عمل پر اعتراض کرتے ہوئے بل منظور کرنے پر زور دیا ۔
اجلاس میں گزشتہ پانچ برس کی اسکالرشپس اور لیپس ہونے والے کوٹوں پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کمیٹی نے پی ایس ڈی پی دوہزارپچیس چھبیس میں صوبوں کی ترقیاتی بجٹ میں کمی پر تشویش ظاہر کی۔ اجلاس میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن کے انتظامی معاملات بھی زیر بحث آئے۔
چیئرپرسن نے بتایا کہ ادارے میں پچیس سال سے ایک ہی خاتون وائس چانسلر تعینات ہیں۔ جوائنٹ سیکرٹری جنید اخلاق نے وضاحت کی کہ وائس چانسلر کی تقرری سرچ کمیٹی کے ذریعے ہوتی ہے،پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن کے چانسلر صدرِ مملکت ہیں، جو پینل میں سے کسی ایک امیدوار کی منظوری دیتے ہیں۔



















