سینیٹ سے منظوری کے بعد 27ویں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں بھی پیش کردیا گیا ہے۔
اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے،وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ 27 ویں آئینی ترمیم کےبل کی تحریک پیش کردی،قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر میں آئینی معاملات کی سماعت آئینی بینچ کرتا ہے، آئینی ترامیم اتفاق رائے سے کی جاتی ہیں،دنیا بھر میں ججز کی تقرری جوڈیشل کمیشن کرتا ہے،سینیٹ نے اس بل کو دو تہائی اکثریت سے پاس کیا،دنیا بھرمیں ججز تعینانی لارجر فورم کرتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نےکہا کہ وفاقی آئینی عدالت میں چاروں صوبوں اوراسلام آباد ہائیکورٹ کی نمائندگی دی گئی ہے،آرٹیکل 184کے تحت سوموٹوعفریت کی طرح آیا،میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا قیام شامل تھا، اسی اختیار کے تحت سابق وزرائے اعظم کو گھر بھیجا گیا،184تھری کو ختم نہیں کیاگیا،صرف طریقہ تبدیل کیا گیا،ماضی میں ججز کے آرٹیکل 200 کےتحت تبادلےہوئے،ان تبادلوں کوچیلنج کیاگیا،سنیارٹی کا ایشو بھی آیا،اب 2 عدالتیں ہونگی،آئینی عدالت کو وہی اختیارات حاصل ہوں گے جو آئینی بینچز کو حاصل تھے۔
وزیرقانون نےکہاسینیٹ میں بل پیش کرکےسوموٹو کا اختیارختم کیاگیا،موجودہ چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن پاکستان کےسربراہ ہیں،آئندہ دونوں عدالتوں میں سے جو سینئر ہوگا وہی سربراہ ہوگا، آرٹیکل209 کےتحت سپریم جوڈیشل کمیشن میں اب7ججز ہوں گے،جوڈیشل کمیشن میں اپوزیشن اورحکومتی بینچز سے 2،2 اراکین ہیں،ججزکی تقرری کرنےوالےجوڈیشل کمیشن کوتبادلےکااختیاردیاگیا۔
وزیرقانون نے کہا صدرمملکت کو ریٹائرمنٹ کے بعد مکمل قانونی استثنی حاصل ہوگا،دوبارہ عوامی عہدہ لینے پر یہ سہولت ختم ہوجائے گی،اس بل پر سینیٹ میں بحث ہوچکی ابھی منظوری کا عمل شروع کیا جائے۔
بیرسٹرگوہر نےکہا وزیراعظم کو مبارک،کل 2لوٹوں کے ووٹ سےترمیم پاس کرائی،لوٹوں سے بنی ترمیم بدقسمتی،عوام کی خدمت نہیں کرسکےگی،آئینی ترمیم ایک حساس معاملہ ہوتا ہے،جس ملک میں آئین میں ترمیم آتی ہےاس ملک کے عوام خوشی مناتے ہیں،آج جمہوریت کیلئے سوگ کا دن ہے۔
مزید کہاپی ڈی ایم 1کی حکومت اپریل میں آئی،مئی میں سب سے پہلے نیب آرڈیننس میں ترمیم کی ،50کروڑ سے کم کیسز کو کرپشن کے کیسز نہ ہونے میں شمار کیا،یہ اپنے سارے کیسز ختم کراکر ایک طرف ہوگئے،اب یہ جاتے جاتے خود کو استثنیٰ دینے جارہے ہیں،جمہوری ممالک میں عوام،قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہی جمہوریت ہے،قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہی جمہوریت کی بالادستی ہے
اجلاس کا ایجنڈا
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے آج کے اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا ہے،جس کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم ایوان زیریں میں پیش کی جائےگی،وزیر قانون سینیٹ سےمنظور 27 ویں آئینی ترمیم کو زیرغور لانے کی تحریک پیش کریں گے،وزیرقانون 27 ویں آئینی ترمیم کوفوری منظورکرنےکی تحریک بھی پیش کریں گے۔
اس کےعلاوہ سائبرکرائم میں 35 فیصداضافے سے متعلق توجہ دلاؤنوٹس بھی ایجنڈے کا حصہ ہے، شہریوں کےواٹس ایپ اورحساس معلومات کی ہیکنگ سےمتعلق توجہ دلاؤنوٹس ایجنڈےمیں شامل ہیں۔
حکمران اتحادکو قومی اسمبلی میں دو تہائی واضح اکثریت حاصل ہے،آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں، حکمران اتحاد کے پاس 237 کی اکثریت موجود ہے،مسلم لیگ (ن) کے 126، پیپلزپارٹی کے 74 ارکان کی ترمیم کو حمایت حاصل ہے، ایم کیو ایم کے 22، مسلم لیگ (ق) 5 ،استحکام پاکستان پارٹی کے 4 اراکین شامل ہیں،مسلم لیگ ضیاء 1، باپ پارٹی 1 اور 4 آزاد اراکین بھی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے۔
واضح رہےکہ سینیٹ گزشتہ روز 27ویں آئینی ترمیم 64 اراکین کی حمایت سےمنظورکرلی گئی ہے، سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس کا اختیارختم،ستائیسویں آئینی ترمیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت بنے گی ،آئینی عدالت پرسپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق نہیں ہوگا،ججزکی اہلیت اور تقرری کی شرائط مقرر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو ہوگی۔
سینیٹ کے بعد 27 ترمیم کی قومی اسمبلی سے منظوری پر صدر مملکت اس کی توثیق کریں گے جس کے بعد ستائیسویں آئینی ترمیم فوری نافذالعمل ہوجائے گی۔



















