امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی امن پلان سامنے آگیا۔
امن منصوبے کےمطابق فریقین کی منظوری سے فوری جنگ بندی عمل میں لائی جائےگی،72گھنٹوں میں تمام یرغمالی رہا ہوں گے،فلسطینی قیدیوں کوبھی رہا کیا جائےگا،اسرائیلی فوج مرحلہ وار واپس جائےگی۔ غزہ میں اسرائیل قبضہ نہیں کرےگا۔
غزہ کی انتظامیہ کےلیےعبوری ٹیکنوکریٹ کمیٹی قائم ہوگی،بین الاقوامی بورڈ آف پیس اس کی نگرانی کرےگا،بورڈ کے سربراہ صدر ٹرمپ خود ہوں گے،سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئرکا اس میں اہم کردار ہوگا،حماس کوحکومت میں حصہ نہیں ملےگا،ہتھیار ڈالنےوالے حماس کےارکان کوعام معافی دی جائےگی،غزہ چھوڑنےوالوں کومحفوظ راہداری ملے گی،غزہ کواسلحہ سے پاک علاقہ بنایا جائےگا،غزہ کی تعمیر نوکی جائےگی۔
امدادکی فراہمی اقوام متحدہ اور امدادی اداروں کےتحت بحال ہوگی،رفح کراسنگ کھولی جائےگی،غزہ کا کی سیکیورٹی انٹرنیشنل استحکام فورس کےذمہ ہوگی،فلسطینی اتھارٹی کو مشروط انتظامی امور سنبھالنے کا موقع ملےگا،دو ریاستی حل کی راہ ہموارکی جائےگی۔
غزہ کی ترقی کے لئےخصوصی اقتصادی منصوبہ متعارف کرایاجائےگا،عالمی اورعرب شراکت داروں کے ساتھ مل کرمنصوبےکو عملی جامہ پہنایاجائےگا،منصوبہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کےقیام کی جانب ایک اہم سنگ بنیاد ہوگا۔





















