ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ مسعود پزشکیان نے وزیراعظم سے کہا کہ ایران پاکستان کی حمایت کو کبھی نہیں بھولے گا، پاکستان نے یوکرینی صدر کے بیان کو مسترد کیا ہے ، یوکرین نےپاکستان کے ساتھ کوئی ثبوت شئیر نہیں کیے، پاکستان کا اسرائیل سے کوئی سفارتی تعلق نہیں، ہمارا پاسپورٹ بھی شہریوں کو پابند رکھتا ہے کہ وہ اسرائیل کا سفر نہ کریں۔ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے ویزے کے معاملے پر ترجمان کا کہناتھا کہ یہ وزارت داخلہ کا معاملہ ہےہم ان سے ہدایات لیتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی صدر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا، صدر آصف زرداری نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی، صدر مسعود پزشکیان نے پاکستان کی حمایت کا شکریہ ادا کیا، ایرانی صدر کی وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات ہوئی۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہناتھا کہ وزیراعظم نے 12 روز کی جنگ کے دوران شہید ایرانی شہریوں کیلئے اظہار تعزیت کیا، مسعود پزشکیان نے وزیراعظم سے کہا کہ ایران پاکستان کی حمایت کو کبھی نہیں بھولے گا، ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے بھی ملاقات ہوئی، پاکستان نے وزیر اعظم کی ہدایت پر غزہ کے لیے امدادی سامان روانہ کیا، آج وزیر اطلاعات نے 18 ویں کھیپ غزہ کے لیے روانہ کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق 5 اگست کو پاکستان میں کشمیر کے لیے یوم استحصال کا انعقاد کیا گیا،نائب وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے یو این کو خطوط ارسال کیے، پاکستان نے معرکہ حق کے دوران اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا، پاکستان ایران دو طرفہ تعلقات تجارت ، عوامی روابط سمیت کئی جہتوں پر مبنی ہیں، پاک ایران پائپ لائن کے بارے میں تکنیکی ٹیمیں رابطے میں ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ کا کہناتھا کہ پاکستان نے یوکرینی صدر کے بیان کو مسترد کیا ہے ، یوکرین نےپاکستان کے ساتھ کوئی ثبوت شئیر نہیں کیے ، پاکستان یہ بات یوکرین کے ساتھ اٹھائے گا، پاکستان یوکرین تنازع کے پرامن اور مذاکرات پر مبنی حل کا حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے بعد سے پاکستان اور بھارت میں مذاکرات کیلئے کوئی رابطہ نہیں ہوا، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکی صدر کے ثالثی کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں ، ضروری یہ ہے کہ اس معاملے پر ہندوستان سنجیدگی دکھائے۔
بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے ویزے کے معاملے پر ترجمان کا کہناتھا کہ یہ وزارت داخلہ کا معاملہ ہےہم ان سے ہدایات لیتے ہیں۔ بلوچستان اور کے پی میں دہشتگردی افغان پناہ گاہوں سے ہوتی ہے، اس دہشت گردی میں بھارت کا براہ راست عمل ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان کا اسرائیل سے کوئی سفارتی تعلق نہیں، ہمارا پاسپورٹ بھی شہریوں کو پابند رکھتا ہے کہ وہ اسرائیل کا سفر نہ کریں، غزہ میں اسرائیلی مظالم دیکھتے ہوئے سوال پیدا بھی نہیں ہوتا کہ پاکستان کا کوئی رابطہ ہو، ہمارا مؤقف ہمیشہ سے واضح ہے۔
پاکستان نے افغان سفیر کے اسٹیٹس کو اپ گریڈ کیا ہے، اس سلسلےمیں اسناد تقرری صدر کو پیش کرنے کی ضرورت نہیں تھی، سفیروں کی تقرری دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے کےنتیجے میں ہوئی۔
افغان وزیر خارجہ پر یواین کی سفری پابندیوں سے متعلق سوال پر ترجمان نے تبصرےسےگریز کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یواین جنرل اسمبلی اجلاس میں پاکستان کی شرکت سے متعلق وزارت خارجہ تیاریاں کر رہی ہے، پاکستانی دھاتوں کے حوالے سے امریکا کے ساتھ کوئی خفیہ معاہدے نہیں ہوئے، کشمیر کا معاملہ اہم ہے،اس سے قبل ہم صدر ٹرمپ کے کشمیر پر بیان کو خوش قرار دیا تھا، پاکستانی اور امریکی سفارتی ملاقاتوں میں یہ ایشو اٹھایا جاتا ہے۔





















