وفاقی دارالحکومت میں سیکڑوں سرکاری رہائش گاہوں پر غیرقانونی قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔
شہر اقتدار میں فیڈرل لاجز،سرکاری ہاسٹلز اور کمپلیکسزپرغیرقانونی قابض افسران کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 509 افسران سےسرکاری رہائش گاہیں واگزارکروا لی گئیں۔150 سے زائد نادہندہ سرکاری افسران کو کرائےکی وصولی کے لئےنوٹس جاری کردئیےگئے،نادہندگان میں ایوان صدر،وزیراعظم آفس،سپریم کورٹ سمیت بڑے اداروں کے اعلیٰ افسران شامل ہیں،وزارت ہاؤسنگ کی جانب سے تفصیلی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کر دی گئی ۔
وفاقی وزیرِہاؤسنگ وتعمیرات ریاض حسین پیرزادہ کےمطابق اسٹیٹ آفس اور انٹیلیجنس بیورو کے اشتراک سےغیرقانونی قبضوں کےخلاف مشترکہ سروےکیا گیا،اب تک 509 غیرقانونی الاٹمنٹس نشاندہی کرکےمنسوخ کی گئیں،اوررہائش گاہیں ناجائزقابضین سے خالی کروائی جاچکیں،مستقبل میں فیڈرل لاجز اور سرکاری ہاسٹلز کو غیرقانونی قابضین سے محفوظ بنانے کی منصوبہ بندی بھی کر لی گئی۔
سرکاری لاجز اور ہاسٹلز میں رہائش پذیر 150 افسران کرائےکی مد میں 52لاکھ سے زائد رقم دبائے بیٹھے ہیں، اس میں سے گلشن جناح کمپلیکس کے 14 لاکھ،فیملی سوٹس کے 25 لاکھ 85 ہزار روپے شامل ہیں۔فیڈرل لاج ون ٹو اور نیوبلاک کے رہائش کنندگان 8 لاکھ 68 ہزار اور فاطمہ جناح ہاسٹل کےساڑھے 3لاکھ روپے کے نادہندہ ہیں ۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا ہے کہ جو افسر کرایہ ادا نہیں کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔






















