پتوں سے کہہ دیا گیا تھا، خزاں آئے گی ضرور
لیکن جڑوں نے سازشوں کا جواب دے دیا
کہیں تیل کی خوشبو کی کشش، کسی خطے میں جمہوریت کا نقاب اوڑھ کر قوموں کے فیصلے، خیالات و نظریات بدلنے کی کاوش، امریکا کئی دہائیوں سے اپنے مفادات کے تحفظ کے نام پر دُنیا کے نقشے بدلنے کی کوشش کرتا رہا ہے، صدیوں سے سپر پاورز کرہ ارض پر اپنی مرضی سے تبدیلی لاتی رہی ہیں، مگر اپنی مٹی سے وفا کرنے والی قومیں اپنا راستہ، سبق اور مزاحمت نہیں بھولتیں، ایران بھی انہی خطوں میں شامل ہے جہاں تیل بہتا ہے، مگر غیرت بھی رگوں میں دوڑتی ہے، انہی حالات کا سہارا لے کر امریکا نے پھر تاریخ کے ورق الٹنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن وہ صفحہ پلٹنے میں ناکام رہا۔ ایران اس کہانی کا وہ کردار ہے جسے واشنگٹن بارہا بدلنا چاہتا رہا، کبھی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے، کبھی اقتصادی پابندیوں سے اور کبھی اسرائیل جیسے حلیفوں کے کندھے پر بندوق رکھ کر، لیکن ایران کبھی بھی نرم موم نہیں تھا؟
1953 میں ایران کے وزیراعظم محمد مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ گرا کر امریکا نے تاریخ کی ایک تلخ مثال قائم کی تھی، مگر اب کئی عشروں میں نہ صرف ایرانی عوام نے شعور کی آنکھ کھول لی ہے بلکہ امریکی چالوں کو بھی خوب پہچاننا بھی سیکھ لیا ہے۔ حالیہ اسرائیلی جارحیت کے دوران امریکا نے ایک بار پھر پرانی بساط بچھانے کی کوشش کی، لیکن اب تک کچھ ہاتھ نہیں آسکا۔
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
آیئے زرا پس منظر پر نظر ڈالتے ہیں۔
اکتوبر1951 میں تہران میں ایران کے وزیراعظم محمد مصدق نے پارلیمنٹ کے باہر برطانیہ کے خلاف مظاہرین سے خطاب کیا تو عوام نے بھی "برطانیہ مردہ باد" کا پرجوش نعرہ لگا دیا، لیکن محض دو سال بعد یعنی 19 اگست 1953 میں خفیہ "آپریشن ایجیکس" کے ذریعے اُن کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔ محمد مصدق نے آئل انڈسٹری کو قومیانے کی کوشش کی تھی جو اس وقت برطانوی اینگلو۔ایرانین آئل کمپنی کے کنٹرول میں تھی۔ یہ فیصلہ ایران میں تو بے حد مقبول تھا، لیکن مغربی طاقتیں ناراض ہو گئیں۔ اس آپریشن کی نگرانی اور سرپرستی امریکا اور برطانیہ نے کی تھی۔ یہ واقعہ 1979 میں انقلاب ایران سے پہلے پیش آیا تھا۔ بعد میں شاہ محمد رضا پہلوی جلاوطنی سے لوٹ آئے۔ 11 فروری 1979 کو ایران میں اسلامی انقلاب آیا جس کی قیادت سید روح اللہ موسوی خمینی نے کی۔ 1989 میں امام خمینی کے انتقال کے بعد علی خامنہ ای ایران کے دوسرے سپریم لیڈر بنے اور آج تک اس منصب پر فائز ہیں۔
پھر 13 جون 2025 آیا جب اسرائیل نے بلااشتعال ایران پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے ساتھ ہی 72 سال بعد دوبارہ ایران میں رجیم چینج کی گونج سنائی دی۔ لیکن امریکی اور مغربی میڈیا کے جائزے سے بار بار سوال اٹھتا رہا کہ کیا واقعی امریکا دوبارہ ایران میں 1953 کی طرح "نظام تبدیلی" کی منصوبہ بندی کر رہا تھا؟
ایران میں رجیم چینج کا پہلا اشارہ 17 جون 2025 کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ٹویٹ سے ملا جس میں انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو "آسان ہدف" قرار دیا۔ اسی روز یہ رپورٹ بھی سامنے آئی کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کے منصوبے کو امریکی صدر نے مسترد کردیا ہے۔ عین انہی لمحات میں صدر ٹرمپ کا یہ موقف بھی سامنے آیا کہ امریکا جانتا ہے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کہاں چھپے ہیں، وہ آسان ہدف ہیں، لیکن فی الحال انہیں نشانہ نہیں بنائیں گے، اس کے بعد آیت اللہ خامنہ ای بھی نے کھلے لفظوں جواب دیا کہ ہرگز ہتھیار نہیں ڈالیں گے، مریکی غرور قبول نہیں۔
22 جون کو دوبارہ صدر ٹرمپ نے مخصوص لہجے میں کہا،”بہت سے اہداف باقی ہیں"امن جلد نہیں قائم ہوا تو ہم درستگی، رفتار اور مہارت کے ساتھ ان دوسرے اہداف تک جائیں گے"۔
یہ وارننگ "آپریشن مڈنائٹ ہیمر" کی تکمیل کےبعد سامنے آئی تھی۔ اس مشن کے لئے امریکا کے بی 2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے رات 12 بجے وائٹمین فضائی اڈے سے اڑان بھری، 18 گھنٹے طویل پرواز کر کے ایران میں داخل ہوئے اور بمباری کر کے واپس چلے گئے، تاہم دنیا کو اس کی خبر تک نہ ہو سکی۔ آواز کی رفتار سے قدرے کم رفتار پر پرواز کی صلاحیت رکھنے والے طیارے بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے اڑے جن میں طاقتور بنکر شکن بم نصب تھے جو زیرِ زمین 18 میٹر گہرائی تک تباہی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران پہنچ کر ان طیاروں نے فردو، نطنز اوراصفہان پر بنکر بسٹربم برسائے۔ فردو پر30 ٹن دھماکا خیزمواد گرایا گیا۔ 30 ٹاما ہاک میزائلوں کا استعمال بھی کیا گیا جنہیں 400 میل دور سے داغا گیا۔ ایران نے بھی فوردو سمیت تین ایٹمی تنصیبات پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ امریکی صدر، نائب صدر، وزیرِ خارجہ، وزیرِ دفاع اور اہم پینٹاگون اہلکار وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں پوری صورتحال کو مانیٹر کر رہے تھے۔
اس آپریشن کے اگلے ہی روز یعنی 23 جون کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح سویرے صدر ٹرمپ نے دوبارہ ڈرامائی ٹویٹ داغ دیا کہ "رجیم چینج' کی اصطلاح استعمال کرنا سیاسی طور پر درست نہیں، لیکن اگر ایران کی موجودہ حکومت اپنے ملک کو دوبارہ عظیم نہیں بنا پا رہی تو رجیم چینج کیوں نہیں؟ لیکن اس پیغام سے محض چند گھٹنے پہلے ہی امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیٹھ سے جب سوال ہوا کہ کیا ایران پر حملے کا مقصد وہاں حکومت کی تبدیلی تھا تو اُن کا جواب تھا کہ ایران میں رجیم چینج کا مشن تھا اور نہ ہے۔ حیرت انگیز طور پر 23 جون کو ہی پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ اس پیغام کے ساتھ نمودار ہوتی ہیں کہ ایران مذاکرات سے انکار کرے توعوام کو حکومت طاقت سے چھین لینی چاہیے۔
ٹرمپ کی وارننگ کی کڑیاں 13 جون 2025 سے ملتی ہیں جب اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے خلاف آپریشن رائزنگ لائن لانچ کرتے ہی خبردار کر دیا کہ " فوجی کارروائی آپ کو آزادی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔"
اسرائیل نے "آپریشن رائزنگ لائن" کے ذریعے بھی فارسی تاریخ کے علامتی شیر اور پرانے پرچم کی مدد سے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف ابھارنے کی کوشش کی، تاہم ماہرین اسے غیر مؤثر اور علامتی اقدام قرار دے رہے ہیں۔
ایران اسرائیل جنگ میں اگرچہ امریکی حکومت نے بھی کافی کیلکولیشن کی، لیکن مبصرین نے کسی بھی موقع پر رجیم چینج کے آئیڈیا کو میچور نہیں سمجھا اور زمینی حملے تک ایرانی حکومت گرنے کے امکانات رد کرتے رہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ایران ایک مضبوط نظریاتی ملک ہے۔ وہاں کوئی مضبوط اپوزیشن بھی نہیں کہ جس پر امریکا یا یورپ اعتماد کر کے اس تصوراتی آئیڈیا کو آگے بڑھا سکیں۔ امریکا یا یورپ میں اٹھتی رجیم چینج کی آوازیں محض حالیہ واقعات تک محدود نہیں تھیں بلکہ اس کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں اور آج بھی "نظام کی تبدیلی" کا خوف، بیانات اور حملے اسی تاریخ کی گونج محسوس ہوتے ہیں۔
بعض مغربی تجزیہ کار ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کو حکومت گرانے کی سازش سمجھتے رہے، لیکن ایرانی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین اس تاثر کو محض خام خیالی سمجھتے ہیں کہ ایرانی عوام اسرائیل کی دھمکیوں میں آکر اپنی قیادت کو تبدیل کر لیں گے۔
بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی غیر معمولی مزاحمت اور پھر امریکی حملے کے بھرپور جواب سے امریکا اور اسرائیل بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ اس ایشو پر یک زبان نہ ہونا بھی امریکی انتظامیہ میں یکسو نہ ہونے کا اشارہ تھا۔ حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ رجیم چینج کی گونج محض توجہ ہٹانے کیلئے ہے اور درحقیقت امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پاس جھوٹا پروپیگنڈے، جھوٹے الزامات اور افرا تفری پھیلانے کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ شاعر بھی کیا خوب فرما گئے ہیں،
سامراج کی چالیں پرانی ہو چکیں اب
مہرے بھی تھک گئے ہیں، شطرنج روٹھ گئی ہے






















