ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے پر برطانیہ کا ردعمل آگیا۔ وزیراعطم کیئر اسٹارمر کہتے ہیں کہ ایران کا جوہری پروگرام دنیا کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے، بحران کے سفارتی حل کیلئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا۔
امریکا نے بی 2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کے ذریعے ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، اصفہان اور نطنز پر حملہ کردیا۔ ایرانی حکام نے حملوں کی تصدیق کردی تاہم نقصانات کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
ایرانی ایٹمی توانائی سربراہ کا کہنا ہے کہ حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، ایران اپنی قومی صنعت کی ترقی روکنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کی میز پر واپس آئے تاکہ بحران کا سفارتی حل نکالا جائے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام دنیا کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے، مشرق وسطیٰ کی صورتحال غیر مستحکم ہے، خطے میں استحکام ضروری ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی حملوں کے بعد اسرائیل پر خیبر شکن میزائلوں سے حملہ کردیا، نئے مرحلے میں 20 سے 40 میزائل اسرائیلی شہروں پر داغے گئے، جس کے بعد کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔





















