سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت میں سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جبکہ کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی جس کے دوران فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس مکمل انصاف فراہم کرنے کا اختیار ہے اور عوامی رائے کو تکنیکی بنیادوں پر کچلا نہیں جا سکتا۔
سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے کہا کہ اگر عدالت اس سے متفق ہے تو نظرثانی درخواست مسترد کر کے مکمل انصاف کیا جائے۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد تک نہیں کیا اس لیے نظرثانی میں حق سماعت نہیں دیا جا سکتا۔
جسٹس امین الدین خان نے سوال اٹھایا کہ جو ارکان عدالتی فیصلے کے بعد پی ٹی آئی سے وابستگی کا سرٹیفکیٹ لائے، وہ پہلے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا بیان حلفی بھی دے چکے ہیں تو اسے درست کیوں نہ مانا جائے؟۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے 39 نشستوں پر پی ٹی آئی کو تسلیم کیا تھا، تو پھر ان کی مخصوص نشستیں کہاں ہیں؟ جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ سنی اتحاد کونسل سے 79 ارکان نکل کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور تمام ارکان نے اپنی پارٹی وابستگی کے کوائف جمع کرائے تھے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کے ڈی جی لا کو روسٹرم پر طلب کیا جس پر الیکشن کمیشن نے موقف اختیار کیا کہ وہ تنازع کے حل ہونے کے منتظر تھے۔
فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کے مستقبل سے پریشان ہیں لیکن کیس کا نتیجہ زیادہ سے زیادہ ہار ہی ہوگا۔
سنی اتحاد کونسل نے اضافی دستاویزات بھی جمع کرائیں جن میں انتخابی دھاندلی سے متعلق کمشنر راولپنڈی کا بیان، سپریم کورٹ ججز کی تعداد میں اضافے کا قانون، نظرثانی درخواست کا حکم نامہ، اور الیکشن ایکٹ میں ترامیم شامل ہیں۔
بعدازاں، کیس سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔



















