صدرٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سفارت کاری میں اپنی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروٹھ سوشل" پر ایک بیان میں کہا کہ ہم جلد ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان امن قائم کریں گے۔ ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے، اور وہ معاہدہ کریں گے، اس وقت بہت سی کالیں ہو رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ کو پھر سے عظیم بنائیں۔
صدرٹرمپ نے لکھا کہ جیسے میں نے بھارت اور پاکستان کو معاہدے کی طرف لایا تھا۔ میں نے امریکہ کے ساتھ تجارت کا استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں عقل، ہم آہنگی اور سنجیدگی پیدا کی، اور دو بہترین رہنما فوری فیصلہ کرنے اور رکنے پر تیار ہو گئے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کے پہلے صدارتی دور میں سربیا اور کوسوو کے درمیان دیرینہ تنازع ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ رہا تھا، لیکن انہوں نے اس کو روکا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صدر بائیڈن کی "احمقانہ پالیسیوں" نے طویل المدتی امکانات کو نقصان پہنچایا، لیکن وہ دوبارہ اسے درست کر لیں گے۔ مصر اور ایتھوپیا کے درمیان دریائے نیل پر بڑے ڈیم کے تنازع کو بھی انہوں نے اپنے مداخلت سے وقتی امن تک پہنچایاہے اور یہ امن برقرار رہے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسی طرح ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی بہت جلد امن قائم ہو جائے گا، کیونکہ اس وقت بہت سی کالز اور ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ میں بہت کچھ کرتا ہوں لیکن انہیں کسی چیز کا کریڈٹ نہیں دیا جاتا،مگر عوام سب کچھ سمجھتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے بی سی کے ریچل اسکاٹ کے ساتھ فون کال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع میں امریکہ کی شمولیت کا امکان ہے۔ہم اس میں ملوث نہیں ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ ہم اس میں شامل ہو جائیں۔ لیکن ہم اس وقت ملوث نہیں ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے لیے میز پر آنے کی کوئی آخری تاریخ ہے، تو امریکی صدر نے کہا "نہیں"کوئی ڈیڈ لائن نہیں ہے، لیکن وہ بات کر رہے ہیں، وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، وہ بات کر رہے ہیں، وہ بات کرتے رہتے ہیں۔
امریکہ ایران جوہری مذاکرات کا اگلا دور، جو اتوار کو عمان میں ہونا تھامنسوخ کر دیا گیا۔ لیکن ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی "بات کرنا چاہتے ہیں، اور وہ بات کریں گے حالیہ کشیدگی نے اصل میں ایک معاہدے کو تیزی سے آگے بڑھنے پر مجبور کیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نےروسی صدر پیوٹن کے رابطہ کرنے پر روس کو تنازع میں ممکنہ ثالث کے طور پر غور کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی، اصدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روسی صدرثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔






















