اسرائیل کا کہنا ہے کہ آپریشن ’رائزنگ لائن‘ کا ابھی صرف آغاز ہوا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے اسرائیلی حکام کے حوالے سے لکھا کہ ایران کیخلاف گزشتہ رات کی کارروائی میں 200 طیارے شامل تھے لیکن کچھ رپورٹس ایک ایسے خفیہ عنصر کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو یوکرین کے روسی ایئر بیس پر حالیہ ڈرون حملے سے ملتا جلتا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اسرائیلی حملے سے قبل‘ دھماکہ خیز ڈرون ایران سمگل کیے گئے تھے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ان ڈرونز کو زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل لانچرز پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی صورت میں اسرائیل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اب تک کے حملوں میں نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام بلکہ اس کے فضائی دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل آنے والے دنوں میں مزید حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اسی مہینے کے آخر میں اسرائیل کی جوابی کارروائی نے ایران کے فضائی دفاع، میزائل اور ڈرونز کو نشانہ بنایا، جس سے تقریباً یقینی طور پر ایران کے مستقبل میں ہونے والے حملوں کا جواب دینے کی صلاحیت میں کمی آئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات کے اسرائیلی حملے میں ایرانی آرمی چیف، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور ایران کے 6 ایٹمی سائنسدانوں کی شہادت کی تصدیق ہوگئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حملے میں ایران کے 6 ایٹمی سائنسدان شہید ہوئے، حملے میں سائنسدان مہدی تہرانچی، فریدون عباس، مطلبی زادہ ، عبد الحمید منوچھر، احمد رضا ذوافقاری، سید امیر حسین فقہی شہید ہوگئے۔
اسرائیلی حملے میں ایرانی آرمی چیف جنرل محمد باقری اور پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی سمیت اہم کمانڈرز بھی شہید ہوگئے۔ سپریم لیڈر کی سیکیورٹی پر مامور القدس فورس کے سربراہ جنرل اسماعیل قانی بھی شہدا میں شامل ہیں۔





















