سینیٹ اور قومی اسمبلی نے ایران پر اسرائیلی حملوں کیخلاف مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ قرار دادوں میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سینیٹ اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، جس میں ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک منظور کرلی گئی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایران پر اسرائیلی حملے کیخلاف مذمتی قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ برادر ملک ایران پر اسرائیل کا حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کے صریحاً خلاف ہے، سینیٹ ایران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، اسرائیلی حملے نے خطے کے امن و سلامتی کو مزید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اسرائیل کئی دہائیوں سے فلسطین سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں کی شہادتوں کا ذمہ دار ہے، عالمی برادری اور مسلم امہ دو سال سے غزہ میں معصوم بچوں اور عام شہریوں کا قتل عام دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی پر امت مسلمہ کی خاموشی کے باعث اسرائیل کو اتنی جرأت پیدا ہوگئی ہے کہ اس نے ایک اور خودمختار مسلم ملک ایران پر حملہ کردیا ہے۔
سینیٹ نے ایران پر اسرائیلی حملے کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
اسرائیل کیخلاف قرار داد کی منظوری کے بعد سینیٹ کا اجلاس پیر کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں بھی ایران پر اسرائیل کے جارحانہ حملوں کیخلاف مذمت قرار داد منظور کرلی گئی۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملہ اور شہریوں کی شہادت ناقابل قبول فعل ہے، اسرائیلی حملہ اقوام متحدہ کے رکن ملک کی خودمختاری کیخلاف ہے، ایران پر حملہ عالمی قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، پاکستان ایرانی حکومت اور عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
قرار داد میں اسرائیلی حملے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت اقوام متحدہ سلامتی کونسل اور او آئی سی کے فوری اجلاس بلانے کیلئے اقدامات کرے، ایران کیخلاف جارحیت رکوانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔





















