قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس نوید قمر کی زیر صدارت ہوا جس دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کو مزید 2 ارب ڈالر ملنے کی خوشخبری سنائی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ کا کہناتھا کہ 30جون تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے، اس وقت زرمبادلہ ذخائرکی مالیت تقریبا 12 ارب ڈالر ہے، رواں مالی سال 1 ارب ڈالر کا کمرشل قرضہ پاکستان کو ملے گا، اس سال پانڈا بانڈ جاری کریں گے اور آئندہ سال انٹرنیشنل مارکیٹ کا رخ کریں گے، پاکستان کا اگلے سال یورو بانڈ جاری کرنے کا ارادہ بھی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہناتھا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل پھر شروع کر دیا گیا ہے، یورپی روٹ بحال ہو گیا اور برطانوی روٹ بھی بحال ہونے کی توقع ہے، پچھلی بار پی آئی اے اور اسلام آباد ائیرپورٹ کی بولی کم موصول ہوئی، پی آئی اے کی نجکاری کیلئے تمام رکاوٹیں دور کر دی ہیں،
بلال اظۃر نے کہا کہ غربت کے خاتمے کیلئے بی آئی ایس پی کے بجٹ میں دو برس میں 256 ارب روپے اضافہ کیا گیا، وزیر خزانہ نے کہا گزشتہ مالی سال بی آئی ایس پی کیلئے 460 ارب کی رقم مختص تھی، بلال اظہر کیانی نے کہا کہ رواں مالی سال بی آئی ایس پی کیلئے 592 ارب روپے مختص ہیں، آئندہ مالی سال بی آئی ایس پی کیلئے 716 ارب روپے مختص کئے گئے۔
سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے دفاعی بجٹ 2550 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، رکن کمیٹی شاہدہ بیگم نے کہا کہ اس بجٹ میں آرمی افسران کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے، فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کیلئے بھی کوئی الگ الاونس رکھنا چاہیے، جواپنی جان خطرے میں ڈال کر لڑتے ہیں انہیں بھی الاؤنسز دیئے جائیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جواب دیا کہ یہ ایک اچھی تجویز ہے ہم اس پر ضرور غور کریں گے، عمر ایوب نے کہا کہ آرمی افسران کی تنخواہوں میں 50 فیصد رقم میں کتنا بنتا ہے، رکن کمیٹی نفیسہ شاہ کا کہناتھا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کیلئے سبسڈی بجٹ سے کیوں غائب ہے۔ محمد اورنگزیب کا کہناتھا کہ ہم اس وقت ڈاؤن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ کے مرحلے میں ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز ڈاؤن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ کا حصہ ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز میں جوخسارہ ہے وہ حکومت برداشت نہیں کر سکتی۔



















