پاکستان میں شرح خواندگی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ اسکول میں بچوں کے داخلے کم ہوگئے ۔ اسکولوں کی حالت بھی ابتر ہے۔ پورے ملک میں صرف 60 فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں۔
اقتصادی سروے میں تشویشناک صورتحال سامنے آگئی ۔ تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف صفر اعشاریہ 8 فیصد خرچ کیا گیا ۔ 3 سے 5سال کے بچوں کے اسکولوں میں داخلے کی شرح میں تین اعشاریہ تین فیصد کمی ہوئی ۔ 2023 میں ایک کروڑ 70 لاکھ 77 ہزار بچوں نے اسکول میں داخلہ لیا لیکن 2024 میں یہ تعداد گھٹ کر ایک کروڑ 16 لاکھ رہ گئی ۔
پورے پاکستان میں صرف 60.6 فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں جن میں مردوں کی شرح خواندگی 68 فیصد اور خواتین کی 52 اعشاریہ 8 فیصد ہے ۔ ملک بھر میں 23 فیصد اسکولوں میں بجلی کی سہولت ہی نہیں ۔
بجلی کے حوالے سے بلوچستان کے اسکولوں کی حالت انتہائی ابتر ہے ۔ مجموعی طور پر 24 فیصد اسکولوں میں پینے کا صاف پانی نہیں ۔ 22 فیصد اسکولوں میں ٹوائلٹ کی سہولت نہیں ۔ اقتصادی سروے کے مطابق وفاقی اور پنجاب کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بہتر جبکہ سندھ کے اسکولوں میں سہولیات کی کمی نمایاں ہے۔






















