لاہور میں بسنت کے لیےجامع سیکیورٹی پلان تیارکرلیا گیا ہے،شہر کو لال،پیلے اور ہرے زونز میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ پولیس کی تفصیلی رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرا دی گئی۔
ایڈوکیٹ اظہرصدیق نے پتنگ کے قانون اور اجازت کے نوٹیفکیشن کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔پولیس رپورٹ کےمطابق بسنت 2 ہزار 26 کے لیے دس سال کے ڈیٹا کی بنیاد پر خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
صرف کاٹن ڈور اور رجسٹرڈ پتنگوں کی اجازت ہوگی،شیشہ، کیمیکل اور میٹل ڈور پر زیرو ٹالرنس ہوگی۔ ہر پتنگ اورڈورکی کیو آرکوڈ رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی،موٹرسائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ اور سیفٹی وائرز لازمی جبکہ ریڈ زون میں اینٹینا کے بغیر داخلے پر پابندی ہوگی۔
بسنت کے دنوں میں شہریوں کےلیےپانچ ہزارمفت رکشے چلائے جائیں گے،جبکہ ریسکیو،ہیلتھ اورٹریفک پولیس ہائی الرٹ رہےگی،چھتوں پرشراب نوشی، ہوائی فائرنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔






















