شکر سے سجدے میں جھکا سر، رب کریم پر غیر متزلزل یقین اور کمال اعتماد سے دمکتا چہرہ، یہ منظر ہے جنوبی کوریا میں اپنی انتھک محنت سے ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے ارشد ندیم کی تاریخی فتح کا جو کروڑوں لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا۔
سبزہلالی پرچم سربلند ہوتے ہی فضاء قومی ترانے سے گونج اٹھی اور خوشی سے ارشد ندیم کی آنکھیں چھلک پڑیں، اُن کا دمکتا چہرہ دیکھ کر پوری قوم کےساتھ میری آنکھوں میں بھی خوشی کے آنسو آگئے۔
2024 کی طرح اب جنوبی کوریا میں ہونے والے ان مقابلوں کے وقت بھی میاں چنوں میں بے قرار بیٹھی ارشد ندیم کی والدہ کی دعائیں عرش پر شرف قبولیت حاصل کرچکی ہیں۔ جنگ میں تاریخی فتح کے بعد بننے والے ماحول میں بھارت کے سچن یادیو کو شکست دینے کے بعد پاکستانی قوم اب خوشی اور راحت کا الگ ہی لطف ہی اٹھا رہی ہے۔
ایک سال پیچھے نظر دوڑائیں تو وہ اگست 2024 کی ایک رات تھی جب ارشد ندیم نے 40 سال کے بعد پاکستان کو عظیم کامیابی دی۔ اُس سپوت نے پیرس اولمپکس میں پہلی بار نہ صرف انفرادی گولڈ میڈل جیت کر قوم کا سر فخر سے بلند کیا بلکہ جیولین تھرو میں اولمپکس کی 118 سالہ ریکارڈ بھی توڑ کر سبز ہلالی پرچم سربلند کیا۔ اُس کامیابی و کامرانی کے بعد پوری دنیا کی شہرت اور دولت اُن کے قدموں میں ڈھیر ہوگئی۔
اللہ تعالیٰ کے کرم کے بعد یہ سب کچھ ارشد ندیم کی محنت سے ہی ممکن ہوا ہے۔ وہ آج پوری دنیا کی آنکھوں کا تارا تو بنے ہیں، لیکن ایک ایسا وقت بھی تھا جب اُن کے پاس 85 ہزار روپے کا جویلین تک نہیں تھا۔ آج تمام حکومتی وسائل بھی حاضر خدمت ہیں اور لاہورسے میاں جنوں تک ہر گلی محلے اور چوراہے پر ہزاروں پرستارروں کی پلکھیں بچھی ہیں۔
ارشد ندیم محض ایک قومی ہیرو کے طور پر ہی سامنے نہیں آئے بلکہ اپنی محنت اور لگن سے دنیا بھر کے نوجوانوں کیلئے مثال بن کر تاریخ لکھ ڈالی ہے۔ یہ کامیابی پیغام ہے کہ خود احتسابی کے بجائے ناکامی کا ذمہ نصیب، قسمت اور مقدر کو ٹھہرانے کی صدیوں پرانی ریت ختم کی جا سکتی ہے کیونکہ قابلیت وسائل کی محتاج نہیں!
ان کامیابیاں دیکھ کر ہی تہہ در تہہ یہ راز بھی کھلے ہیں کہ ارشد ندیم نے کن کن مشکلات سے گزر کر فتح سمیٹی اس منزل پر پہنچے ہیں۔ روشن ستارے کی طرح ٹی وی اسکرینز پر چمکتے ارشد ندیم یوتھ کےلئے پیغام دے رہے ہیں کہ
بے عمل دل ہو تو جذبات سے کیا ہوتا ہے
دھرتی بنجر ہو تو برسات سے کیا ہوتا ہے
ہے عمل لازمی تکمیلِ تمنا کے لئے
ورنہ رنگین خیالات سے کیا ہوتا ہے
اگرچہ ارشد ندیم نے سچی لگن سے تمام رکاوٹیں تو عبور کر لی ہیں، لیکن اُن کی جددوجہد لمحہ فکر بھی ہے کہ پاکستان میں ایتھلیٹس کے لئے سہولیات کا فقدان ہے۔ ٹریننگ کے لیے کورٹ ، کوچز، سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا رہتا ہے۔ کرپشن اور وسائل کی کمی کے باعث پورا سال کھلاڑیوں کے مقابلے نہیں ہوتے جس سے اُن کی پرفارمنس شدیدمتاثر ہوتی ہے۔ وسائل کی کمی، خاندانی پابندیاں اور سماجی و مذہبی پابندیوں کے پیش نظر نوجوان اور خصوصاً لڑکیاں اسپورٹس کی طرف راغب ہی نہیں ہوتیں۔ کھیلوں کی بہت سی فیڈریشنز مردوں کے زیر تسلط ہیں جس کا بنیادی نقصان یہ ہے کہ خواتین کو اچھی نمائندگی نہیں ملتی۔ وزیراعظم جناب شہباز شریف ایک ویژن کے تحت ہمیشہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، لیکن حکومتوں کو اجتماعی طور پر اب محض زبانی دعوؤں سے آگے بڑھ کر انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ارشد ندیم کی یہ کامیابی نوجوانوں کیلئے پیغام ہے کہ ان تھک محنت کر کے آپ کسی بھی شعبے میں ترقی اور عروج حاصل کر سکتے ہیں، تاہم سوچنے کا موقع بھی ہے کہ ارشد ندیم کی طرح بڑے خوابوں کا شہزادہ اور مشعل راہ بننے کے لئے شبانہ روز پسینہ بھی بہانا ہو گا، بے شمار راتیں جاگ کر محنت کرنا ہو گی اور ان گنت خواب قربان کرنا ہوں گے کیونکہ
پھول یونہی کھلا نہیں کرتے
بیج کو دفن ہونا پڑتا ہے






















