مسلم لیگ ن نے مخصوص نشستوں کے کیس میں عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کردی۔ مؤقف اختیار کیا کہ سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف کو ایک پارٹی نہیں سمجھا جاسکتا۔
مسلم لیگ ن نے مخصوص نشستوں نظر ثانی کیس میں اضافی گزارشات سپریم کورٹ میں جمع کرادیں۔ جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 12 جولائی کے فیصلے میں آرٹیکل 187 کا اختیار طے شدہ عدالتی معیار کے منافی استعمال ہوا، مکمل انصاف کا اختیار زیر التواء مقدمات میں ہی استعمال ہوسکتا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل نے 80 ارکان کے ساتھ مخصوص نشستوں کیلئے اپیل دائر کی، اپیل پر فیصلے سے سنی اتحاد کونسل کے پاس زیرو ارکان رہ گئے، 12 جولائی فیصلے میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں تو نہ ملیں بلکہ ان کے اپنے ارکان بھی واپس لے لیے۔
درخواست کے مطابق آرٹیکل 187 کا اختیار لامحدود نہیں ہے، جن نکات پر فیصلہ دیا گیا وہ کبھی عدالت کے ریکارڈ پر نہیں تھے، سنی اتحاد کونسل کے 80 ارکان میں کوئی عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوا۔
ن لیگ نے مؤقف اختیار کیا کہ سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف کو ایک پارٹی نہیں سمجھا جاسکتا، 12 جولائی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔



















