امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت سیز فائر پر تیار ہوگئے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تصدیق کردی۔
پاکستان نے بھارت کی جارحیت کے جواب میں ہفتہ کی رات آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ شروع کیا تھا، جس میں بھارت کے ایئر بیسز، فوجی تنصیبات اور اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایکس پیغام میں کہا کہ پاکستان اور بھارت جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں، دونوں ملکوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا،
ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کو فیصلہ کرنے پر مبارکباد دیتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں فوری جنگ بندی پر رضامندی ہوگئیں، اعلان کرتے ہوئے خوش ہوں، گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران جے ڈی وینس اور میں نے بھارتی اور پاکستانی عہدیداروں کے ساتھ رابطے کئے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے غیر جانبدار مقام پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
امریکی سیکریٹری خارجہ نے بتایا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران میں اور نائب صدر پاکستانی حکام سے رابطے میں رہے، ہم نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، نریندر مودی، پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر، بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر اور بھارتی مشیر قومی سلامتی اجیت دوول سے مسلسل رابطے میں رہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خوشی سے اعلان کرتا ہوں کہ دونوں ممالک فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے، دونوں ممالک نے نیوٹرل مقام پر مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا، پاکستانی اور بھارتی وزرائے اعظم کی امن کی کوششوں اور دور اندیشی کو سراہتا ہوں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور بھارت فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے، پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور سلامتی کیلئے کوشش کی، پاکستان نے امن کی کاوشوں میں خود مختاری، سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ساڑھے 4 بجے سے سیز فائر پر متفق ہوگئے ہیں، کچھ دیر بعد وزارت خارجہ کی جانب سے تفصیلی پریس ریلیز جاری ہوگی۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ قوم کی دعاؤں سے پاکستان نے بھرپور دفاع کیا، نہ صرف دفاع کیا بلکہ جو رسپانس دینا چاہیے تھا وہ بھی دیا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مختلف ممالک 24 گھنٹوں سے کوشش کررہے تھے، ہماری ایک ہی بات تھی کہ ہم سیز فائر کیلئے تیار ہیں، بھارت اگر قدم اٹھاتا تو ہم جواب دیتے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور بھارت جنگ بندی پر متفق ہوگئے، دونوں ملکوں میں جنگ بندی کا آغاز ساڑھے 4 بجے سے نافذ ہوا۔





















