لک پاس دھرنے سے متعلق حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے، سردار اختر مینگل کل کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔
بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل سے مذاکرات کیلئے حکومتی وفد کی قیادت سابق چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کی، وفد میں ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ، وزیر تعلیم راحیلہ درانی، نیشنل پارٹی کے رہنماء نذیر بلوچ اور دیگر حکومتی رہنماء شامل تھے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے حکومتی وفد کے سامنے بی وائے سی کی گرفتار خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ پیش کیا، جسے حکومت نے تاحال تسلیم نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ سردار اختر مینگل نے کل 6 اپریل کو کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، لک پاس سے کل 9 بجے لانگ مارچ کوئٹہ کا رخ کریگا، کوئٹہ سے بلوچستان نیشنل پارٹی اور دیگر حمایت یافتہ جماعتوں کے کارکنان لک پاس کی جانب مارچ کریں گے۔
حکومت نے بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے، جس کے تحت 5 سے زائد افراد کے مجمع اور اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی عائد ہے۔
دوسری جانب سربراہ بی این پی مینگل سردار اختر مینگل سے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھانے کی یقین دیانی کرائی۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم آپ کیلئے کیا کرسکتے ہیں، میں نے اپنا مطالبہ ایاز صادق کے سامنے رکھ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر ایاز صادق نے وزیراعظم کے سامنے معاملہ اٹھانے کی یقین دہانی کرائی، بلوچستان کی خواتین ارکان اسمبلی میڑھ لیکر میرے پاس آئیں ہم نے احترام کے ساتھ ان کے سامنے اپنی گرفتار خواتین کی رہائی کا مطالبہ رکھا، اگر ہمارا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا تو ہم کل ہر صورت کوئٹہ کی جانب مارچ کریں گے، ہمارا مارچ پُرامن ہوگا۔
اختر مینگل نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے اشتعال انگیزی کی جارہی ہے، حکومت نے لانگ مارچ کے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کی ہیں، ہم حکومتی مشینری کے سامنے کمزور تو ہیں لیکن اپنے مؤقف سے ہٹنے کو تیار نہیں۔