فوجی جوان ہر دم ملک کی حفاظت اور بقاء کےلئے اپنی جان قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں، دفاع وطن کے لئے دی جانے والی لازوال قُربانیاں افواجِ پاکستان کی میراث ہیں، جان قربان کرنے والے عظیم سپوتوں کی قربانیوں نے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
تفصیلات کے مطابق دفاع وطن میں جان قربان کرنے والی داستانوں میں سے ایک حوالدار جاوید اقبال شہید کی بھی ہے، حوالدار جاوید اقبال نے 20 نومبر 2024 کو بنوں میں فتنہ الخوارج سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا۔ حوالدار جاوید اقبال نے لواحقین میں والدین، بیوہ اور تین بچے چھوڑے۔
حوالدار جاوید اقبال شہید کی والدہ نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا سب سے لائق تھا، ہمیشہ میری ہر بات سنتا تھا اور کبھی کسی بات سے انکار نہیں کیا، میرے بیٹے جیسا کوئی بھی نہیں ہے، میں دن رات اپنے بیٹے کو یاد کرتی ہوں۔
حوالدار جاوید کے بھائی کا کہناتھا کہ بچپن سے لے کر بھائی کی شہادت تک میری پاس ڈھیروں یادیں ہیں، ، بچن سی میرے بھائی نے مجھے پالا اور میرا سہارا بنا، میرا بھائی سب کے ساتھ اچھا سلوک کرتا تھا،وہ دینی دنیاوی ہر لحاظ سے بہترین شخصیت کا مالک تھا،جب بھائی کی شہادت کی اطلاع ملی تو دل نہیں مان رہا تھا کہ بھائی نہیں رہا، جوان بھائی کو قبر میں اتارنا بہت مشکل ہے، ہمارا دکھ اپنی جگہ لیکن مجھے فخر ہے کہ میرا بھائی شہید ہوا۔
حوالدار جاوید اقبال کے بیٹے نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے بابا جیسا کوئی نہیں ہو سکتا اور بابا ہم سے بہت پیار کرتے تھے، بابا ہمیشہ کہتے تھے کہ ہمیں پڑھنا ہے اور بہت آگے جانا ہے، بابا نے ہمیشہ پیار اور محبت سے رہنا سکھایا اور لڑائی نہ کرنے کا کہا، ہمیں اپنے بابا بہت یاد آتے ہیں، میں بھی بڑا ہو کر پاک فوج میں جاؤں گا اور ملک کی خدمت کروں گا، وطن کیلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو پوری قوم خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔