امریکی محکمہ دفاع نے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) کے سربراہ اور سائبر کمانڈ کے ڈائریکٹر فور اسٹار جنرل ٹموتھی ہوگ (Timothy Haugh) کو عہدے سے برطرف کرنے کی تصدیق کر دی ہے ۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سیکیورٹی افسران کے خلاف مبینہ "سیاسی صفائی" پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے مختصر بیان میں جنرل ہوگ کی خدمات کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، تاہم برطرفی کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل ہوگ کی برطرفی کا پس منظر دائیں بازو کی متنازع انٹرنیٹ کارکن لورا لومر کی جانب سے صدر ٹرمپ کو دیے گئے مشورے سے جڑا ہے ۔
ڈیموکریٹ سینیٹر مارک کیلی نے کہاکہ "جنرل ہوگ نے نیشنل سیکیورٹی ایجنسی اور سائبر کمانڈ کی قیادت مؤثر انداز میں کی۔ ان کی برطرفی اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمپ قابلیت پر وفاداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔"
سینیٹر مارک وارنر نے کہاکہ "یہ معاملہ اتنا غیر معقول ہے کہ یقین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ جن لوگوں نے امریکا کو شرمندہ کیا اور فوجیوں کی زندگی خطرے میں ڈالی، ان کو تو نہیں نکالا گیا، لیکن جنرل ہو جیسے غیرجانبدار سیکیورٹی ماہر کو برطرف کر دیا گیا۔"
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل ہوگ کے علاوہ ان کی نائب وینڈی نوبل کو بھی عہدے سے ہٹا کر کسی اور جگہ تعینات کر دیا گیا ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے کئی افسران بھی برطرف کیے گئے ہیں، جن میں سینئر انٹیلی جنس ڈائریکٹر برائن والش اور قانون سازی امور کے سربراہ تھامس بوڈری شامل ہیں۔
رائٹرز کے مطابق، اس ہفتے کے دوران سیکیورٹی اداروں سے ایک درجن سے زائد افسران کو نکالا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"ہم ہمیشہ کچھ لوگوں کو ہٹاتے ہیں وہ لوگ جو ہمارے کام کے قابل نہیں یا جن کی وفاداری کسی اور سے ہو۔"
انہوں نے لورا لومر سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا:"وہ ایک محب وطن خاتون ہیں۔ وہ تجاویز دیتی ہیں، لیکن یہ کہنا کہ انہوں نے کسی افسر کی برطرفی کی ہدایت کی، درست نہیں۔"
لورا لومر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ جنرل ہوگ اور ان کی نائب وینڈی نوبل "صدر ٹرمپ کے لیے وفادار نہیں تھے، اس لیے انہیں برطرف کیا گیا۔"
انہوں نے مزید کہا:"یہ برطرفیاں امریکی عوام کے لیے خوش آئند ہیں۔"