سابق کپتان شعیب ملک نے کہا ہے کہ جو لوگ ان کے 50 لاکھ روپے ماہانہ کمانے پر تنقید کر رہے ہیں وہ ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ مینٹور شپ قبول کرنے سے پہلے بھی ماہانہ 50 لاکھ سے بہت زیادہ کماتے تھے اور اگر اس کے ثبوت چاہیے تو وہ بھی دینے کو تیار ہیں۔
ایک ٹی وی شو میں بات کرتے ہوئے سابق کپتان کا کہنا تھا کہ کرکٹ بورڈ کے 5 مینٹورز 3 ہزار سے زائد انٹرنیشنل میچز میں ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ہمارے غیر ملکی فزیو بھی اتنے پیسے لے رہے ہیں چونکہ ان کی سکن گوری ہے وہ ہمیں قبول ہیں۔ لیکن مینٹورز، جنہوں نے ملک کی بیش بہا خدمت کی ہے، کئی اہم میچز جتوائے ہیں، ان پر آپ کو اعتراض ہیں۔
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ مینٹورز کے پاس 5 ڈومیسٹک ٹیمز ہیں، جو 4 ڈے، ون ڈے اور ٹی 20 میچز کھلیں گی۔ اس کے علاوہ ویمن کرکٹ ٹیم اور انڈر 19 کرکٹ ٹیم بھی مینٹور کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ ہمارے پاس ہائی پرفارمنس سینٹرز بھی ہیں، جہاں پلیئرز ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے۔ لوگ 50 لاکھ پر رو رہے ہیں جو ٹیکس کاٹ کر 14 سے 15 ہزار ڈالرز (36 سے 38 لاکھ روپے) بنتے ہیں۔
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ کنٹریکٹ کے مطابق ہمیں 240 دن دیے گئے ہیں، کہا جاتا ہے کہ مینٹورز ٹی وی پر کیوں بیٹھتے ہیں؟ یہ ہم نے نے کنٹریکٹ سے پہلے بتا دیا تھا۔ الحمدللہ میری آمدن اس سے کہیں زیادہ ہے، کہیں گے تو میں ثبوت بھی فراہم کرسکتا ہوں۔
یاد رہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے پانچ مینٹورز کو ماہانہ 50 لاکھ اور سالانہ 6 کروڑ روپے ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں یہ ادا کیا جانے والا ریکارڈ معاوضہ ہے۔ وقار یونس، مصباح الحق، شعیب ملک، سرفراز احمد اور ثقلین مشتاق 3 سالہ معاہدے کے تحت پورے سال کے لیے دستیاب ہوں گے اور بطور ایڈوائزر بھی کام کریں گے۔