وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں رشوت اور ڈاکے کی سزا ملی ہے، پی ٹی آئی والے جلاؤ گھیراؤ کے بجائے "اوو اوو" کرلیں تو بہت سے مسائل حل ہوں گے۔
ہفتے کے روز لاہور میں علما کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ 190 ملین پاؤنڈ اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، کوئی بنیاد نہیں کہ کہا جائے کوئی قانونی سقم رہ گیا ہو، عدالتی فیصلہ ملکی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ شہباز شریف نے این سی اے کی تحقیقات میں خود کو کلیئر کیا تھا، ان کے پاس کوئی لیگل آرگیومنٹ اور وضاحت نہیں ہ، کیس کے لیے ان کے پاس کوئی دفاع نہیں تھا، پھر کہا گیا سیرت پر چلنے کی سزا دی جا رہی ہے، اسی شخص کا ٹرسٹ بنایا گیا جس کے حوالے پیسے کئے گئے، اس ادارے میں بچے کارٹون دیکھ رہے ہیں، مہربانی فرما کر سیاست کو مذہب سے دور رکھیں، سیاست کریں مگر اللہ ، رسول اور دین کو اس سے دور رکھیں۔
عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے مذہب سے محبت کی سزا دی جارہی ہے، سیاست ہوتی رہے گی مگر دین کا نام نہ لیں، جہانگیر چیکو پورا ٹولہ لیکر مدینہ گیا تھا، مدینہ منورہ میں انہوں نے بدتمیزی کی ، آپ کو کرپشن اور ڈاکے کی سزا ملی ہے، انہوں نے بیرون ملک کنسلٹنٹ رکھے ہوئے ہیں، کہتے اور کچھ نہیں تو اس چیز کو دین سے جوڑ دیں، جو جرائم آپ نے کیے پوری دنیا جان چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا مطلب ڈیل نہیں، سیاسی استحکام لانا ہے، پی ٹی آئی کے لوگ کیمرے کے پیچھے بہت اچھے ہیں، کیمرا بند ہو جاتا ہے تو بہت شیر وشکر ہو جاتے ہیں،26 ویں ترمیم پر ان لوگوں نے ہمارا بڑا ساتھ دیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے آج کل "اوو اوو" کرتے ہیں ، کاش 9 مئی اور 26 نومبر کو بھی "اوو اوو" کر لیا ہوتا، جلاؤ گھیراؤ کے بجائے "اوو اوو" کرلیں تو بہت سے مسائل حل ہوں گے۔