ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مکمل اختیارات کے ساتھ ایران کی قیادت کر رہے ہیں، رہبرِ انقلاب کے ساتھ رابطہ مسلسل برقرار ہے، ان کی ہدایات فوری حکام تک پہنچتی ہیں۔
ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے۔ جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ایران جنگ نہیں چاہتا۔ جارحیت مسلط کی گئی تو فیصلہ کن جواب دیں گے۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ 28 فروری کو حملے کے وقت وہ سپریم لیڈر کے دفتر میں موجود تھے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کے صورتحال سے متعلق دو دن تک غیر یقینی صورتحال رہی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی ممالک کو پہلے ہی آگاہ کردیا تھا حملے کی صورت میں امریکی اڈے نشانہ ہونگے، ہمسایہ ملکوں میں امریکی اڈے نہ ہوتے تو ان پر حملے کی نوبت نہ آتی، امریکا نے خلیجی ممالک کو سیکیورٹی دینے کے بجائے عدم تحفظ سے دوچار کیا۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو توقع نہیں تھی کہ ایران اتنی طاقت سے جواب دے گا۔





















