گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کی سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے۔
الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کی ہدایات کے مطابق تمام امیدواروں کے لیے 5 جون کی رات 12 بجے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو جائے گا جس کے بعد 7 جون کو خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے پولنگ ہو گی۔
الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی حتمی ووٹر فہرستوں کے مطابق خطے کے 10 اضلاع میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 9 لاکھ 63 ہزار 34 ہے جن میں 5 لاکھ 6 ہزار 97 مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار 937 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔ ان ووٹرز کے لیے مجموعی طور پر 24 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جن میں 24 براہ راست منتخب ارکان کے علاوہ 6 نشستیں خواتین اور تین نشستیں ٹیکنوکریٹس کے لیے مختص ہیں۔
دیامر اور سکردو سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں سب سے زیادہ یعنی 4، 4 انتخابی حلقے ہیں۔ گلگت، غذر اور گانچھے میں 3، 3 انتخابی حلقے قائم کیے گئے ہیں۔ نگر اور استور کے حصے میں 2، 2 انتخابی حلقے آئے ہیں۔ ہنزہ، شگر اور کھرمنگ چھوٹے اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ایک ضلعے میں 1، 1 انتخابی حلقہ موجود ہے۔
گلگت اسمبلی کی ان 24 جنرل نشستوں پر اس مرتبہ کل 396 امیدوار آمنے سامنے ہیں جن میں 266 آزاد امیدوار بھی شامل ہیں جو سیاسی جماعتوں کے لیے اپ سیٹ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔





















