شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے دفاع اجلاس میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دوٹوک مؤقف اپنایا اور کہا کہ سب سےزیادہ تشویش کالعدم ٹی ٹی پی،بی ایل اے جیسےدہشتگرد گروہوں کےافغان سرزمین مسلسل استعمال کرنے پر ہے، جبکہ زمینی حقائق یہ ثابت کرتےہیں وسیع ترعلاقائی سلامتی کیلئےپاکستان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں کانفرنس کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان اور اس کے شہریوں پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے ، امن واستحکام کیلئےالزام تراشی، نفرت انگیزسیاست،اندرونی سیاسی فائدےکیلئےبیانیہ سازی ترک کرکے شفافیت، اعتماد سازی اور باہمی تعاون کو ترجیح دینا ہوگی ۔
خواجہ آصف نے کہا افغان سرزمین پرموجود دہشتگرد عناصرکےخلاف قابلِ اعتماد، قابلِ تصدیق اورموثرکارروائی ناگزیر ہے ۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی قربانیاں،کامیابیاں نظر انداز کرنا حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف محض کھوکھلے نعرے نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے ۔ پاکستان نے بےمثال قربانیوں،ٹھوس نتائج سے انسداد دہشتگردی کیلئے ذمہ دارانہ وابستگی ثابت کی ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا سیاسی مقاصد، پوشیدہ عزائم اور بدنیتی پر مبنی رہا ہے ۔ خواجہ آصف نے بشکیک میں چین، قازقستان،تاجکستان کے وزرائے دفاع اور ایرانی نائب وزیر دفاع سے ملاقاتیں بھی کیں ۔




















