اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق والکرترک کا کہنا ہے کہ افغانستان انسانی حقوق کا قبرستان ہے، افغان خواتین پر پابندیاں صنفی امتیاز کے مترادف ہیں۔
ہیومن رائٹس کونسل سے خطاب میں والکرترک نے کہا کہ افغانستان میں اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن اور میڈیا پر سنسر شپ کی شدید مذمت کی، خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندی فوری ختم کرنے کا طالبہ کیا اور اقوام متحدہ کے دفاترمیں افغان خواتین کے داخلے پر پابندی پر تشویش کا اظہار کیا۔
والکرترک نے کہا کہ افغان طالبان کی حکومت میں خواتین اور لڑکیاں سب سے زیادہ متاثر ہیں، طالبان کے نئے قوانین عالمی وعدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، سزائے موت اور جسمانی سزاؤں کے نئے ضابطوں پر عالمی برادری کو تحفظات ہیں، لاکھوں افغان خوراک، پانی اور علاج جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ طالبان خواتین کو معاشرے سے الگ کرنے کی پالیسی واپس لیں۔





















