سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فیشن اینڈ ڈیزائن (PIFD) میں منعقدہ ایک اجلاس کو قواعد کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا ہے۔
کمیٹی کا اجلاس سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت ہوا، جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے پی آئی ایف ڈی میں حالیہ اجلاس پر بریفنگ دی گئی۔ چیئرپرسن نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ اجلاس ایوانِ صدر کی منظوری کے بغیر اور قواعد کے خلاف منعقد کیا گیا۔
سینیٹر بشریٰ بٹ نے وائس چانسلر کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف پہلے ہی قواعد سے بالاتر اقدامات پر انکوائری جاری ہے اور وہ 25 سال سے زائد عرصے سے عہدے پر فائز ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وائس چانسلر مبینہ طور پر عہدے کو موروثی حق سمجھتے ہوئے اپنی بہن کی تقرری کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ انکوائری مکمل ہونے تک انہیں کوئی عہدہ یا ذمہ داری نہیں دی جانی چاہیے۔
کمیٹی نے ان کی سابقہ اجلاسوں میں عدم شرکت پر بھی اعتراض اٹھایا اور معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھجوا دیا۔
سینیٹر بشریٰ بٹ نے کہا "جو وائس چانسلر قواعد سے بالاتر ہو کر کام کرے، وہ نظام سے بڑا نہیں ہو سکتا۔انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ریٹائرمنٹ میں محض چھ ماہ باقی ہونے کے باوجود کس اختیار کے تحت ہاسٹل کا افتتاح کیا گیا۔ معاملہ مزید جائزے کیلئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھیج دیا گیا ہے۔
چیئرپرسن نے واضح کیا کہ یہ اقدامات کسی فرد کے خلاف نہیں بلکہ سرکاری اداروں کو ذاتی کاروبار کی طرح چلانے کے رجحان کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کمیٹی آئندہ صوبائی جامعات کے دورے کرے گی تاکہ قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔
سینیٹر بشریٰ بٹ نے بتایا کہ وزارت تعلیم کے سیکریٹری نے حکومتی اخراجات بچانے کا جواز دے کر کمیٹی کے اردو یونیورسٹی لاہور کے دورے سے انکار کیا۔ چیئرپرسن کے مطابق یہ دورہ مبینہ طور پر پنشن کی عدم ادائیگی کے باعث ملازمین کی خودکشیوں کی رپورٹس کے تناظر میں کیا جانا تھا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جامعات میں ٹاؤن ہال اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ حقائق کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔بعد ازاں وضاحت کے بعد محمد رضا چوہان اور ڈاکٹر سروش ہاشمت لودھی کے نام معاملے سے خارج کر دیے گئے۔
کمیٹی نے جعلی ڈگریوں کے معاملے پر بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن میں مستقل ہیلپ ڈیسک قائم کرنے کی ہدایت کی، تاکہ ڈگریوں کی تصدیق اور جانچ کا عمل مؤثر بنایا جا سکے۔ سینیٹر بشریٰ بٹ نے کہا کہ طلبہ کو ادارہ جاتی غفلت کی سزا نہیں دی جائے گی اور جعلی ڈگریوں کی مکمل تفصیلات جمع کی جائیں گی۔
نیوٹیک (NAVTTC) کے معاملات کا جائزہ
کمیٹی نے سینیٹر رانا محمود الحسن کی جانب سے اٹھائے گئے ایجنڈے پر نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کی کارکردگی، شفافیت اور مالیاتی انتظام کا بھی جائزہ لیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2025 میں 71 ہزار طلبہ کو تربیت دی گئی، جن میں سے 6,200 کا تعلق بلوچستان اور 43 ہزار کا پنجاب سے تھا۔ جنوبی پنجاب کیلئے کوئی مخصوص کوٹہ موجود نہیں ہے۔ نیوٹیک کا سالانہ بجٹ 7 ارب روپے ہے جبکہ فی طالب علم خرچ 80 ہزار سے 1 لاکھ 40 ہزار روپے کے درمیان بتایا گیا۔
تاہم جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے دعویٰ کیا کہ فی طالب علم صرف 1,500 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس پر چیئرپرسن نے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی قائم کر دی، جو مبینہ خرد برد اور ذمہ داران کی نشاندہی کرے گی۔
اجلاس میں سینیٹر سید مسرور احسن، سینیٹر خالدہ عتیب، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر شہادت اعوان اور سینیٹر رانا محمود الحسن نے شرکت کی۔






















