سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف نے عوامی عہدے کے لئے گریجویشن کو لازمی شرط قرار دینے کا بل مسترد کردیا۔ فیملی کورٹس ترمیمی بل بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی نے فریقین کی رضامندی سے ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی سفارش منظور کرلی۔
سینیٹر فاروق نائیک کی زیرصدارت اجلاس میں قائمہ کمیٹی نے عوامی عہدے کے لئے گریجویشن کو لازمی شرط قرار دینے کا بل مسترد کردیا۔ جبکہ آئین کے آرٹیکل 228 میں ترمیم کا بل مؤخرکر دیا گیا۔
سنیٹر سرمد علی نے اجلاس میں فیملی کورٹس ترمیمی بل پیش کیا۔ کہا فیملی کورٹس میں جواب جمع کرانے کے لیے 30 کے بجائے 15 دن دیئے جائیں۔ کیس کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے اور محفوظ بھی رکھی جائے۔ سنیٹر سرمد علی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کردیا جاتا ہے عوام کو سہولت نہیں۔
اسلام آباد انتظامیہ کے نمائندے نے کہا کہ انتظامیہ نے کچھ ترامیم کے ساتھ بل کی حمایت کی ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عدالت کو ان کے حال پر چھوڑ دیں،وکلا اس ترمیم کا غلط استعمال کریں گے۔ کمیٹی نے فریقین کی رضامندی سے ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کی سفارش منظور کرلی۔






















