چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے نوجوان وکلا کیلئے خصوصی آن لائن کورس کے آغاز کا اعلان کردیا۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے وکلا تنظیموں کی قیادت نے ملاقات کی۔ چیف جسٹس نے وکلا قیادت کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے اہم فیصلوں سے آگاہ کیا ۔ ملاقات کرنے والوں میں پاکستان بارکونسل ، صوبائی بار کونسلز اورسپریم کورٹ بار کی قیادت شامل تھی ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا ایکسس ٹو جسٹس ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت منصوبے جاری ہیں ۔ نوجوان وکلاء کیلئے خصوصی آن لائن کورس کے آغاز کا اعلان کیا۔
اعلامیہ کے مطابق جبری گمشدگیوں پر ادارہ جاتی ردِعمل اور ججز پر بیرونی دباؤ سے تحفظ عدالتی اصلاحات میں شامل ہے ۔ کمرشل لٹیگیشن کوریڈور اور ماڈل سول و فوجداری ٹرائل کورٹس قائم کئے جائیں گے ۔ 13 اقسام کے مقدمات کیلئے مقررہ مدت میں فیصلوں کا نظام متعارف کرانے پر زور دیا گیا۔
عدالت سے منسلک مصالحتی نظام ، پروفیشنل ایکسیلینس انڈیکس ، معیاری عدالتی تقرریاں اور تربیت اصلاحاتی اقدامات میں شامل ہیں ۔ بائیومیٹرک کیس تصدیق اور ویڈیو لنک سماعتوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اخلاقی رہنما اصول متعارف کرانے پر زور دیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق عدالتوں کی سولرائزیشن،ای لائبریریاں ، خواتین سہولت مراکز کے منصوبے زیرتکمیل ہیں ۔ ایکسس ٹو جسٹس منصوبوں کی تکمیل اگست تک متوقع ہے ۔ بارنمائندگان نے نوجوان وکلا کی استعداد کار بڑھانے پر زور دیا۔
چیف جسٹس نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے جاری تربیتی پروگرامز پر روشنی ڈالی ۔ کہا کہ بار کے ساتھ مشاورت کا عمل مسلسل جاری رہے گا ۔ بار کونسلز کو آئندہ سال کیلئے ترجیحی ضروریات کی نشاندہی کی دعوت دی گئی ۔ دوردراز اور پسماندہ علاقوں کی بار ایسوسی ایشنز کو ترجیحی سہولیات دینے کی ہدایت کی۔





















