لاہور کے علاقے بھاٹی چوک میں دلخراش واقعہ، گزشتہ رات ماں اور دس ماہ کی بیٹی مبینہ طور پر کھلے مین ہول میں گر گئیں۔ خاتون کی لاش چھ گھنٹے بعد نکال لی گئی، جبکہ بیٹی کی لاش 17 گھنٹے بعد مل گئی ہے،واقعے میں سنگین غفلت سامنے آنے پرکارروائی شروع کردی گئی،مقدمہ درج کیا جائے گا۔
لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی چوک میں گزشتہ رات پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں ایک خاتون اور اس کی دس ماہ کی بیٹی مبینہ طور پر کھلے مین ہول میں گر گئیں۔
ریسکیو 1122 اور واسا کی ٹیموں نے طویل سرچ آپریشن کے بعد چھ گھنٹے میں خاتون سعدیہ کی لاش برآمد کرلی، جبکہ دس ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش 17 گھنٹے کے بعد مل گئی ہے،سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن رات گئے سے مسلسل جاری رہا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعےکا نوٹس لےلیا،ذمہ داروں کے تعین کےلیےاعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی،کمیٹی 24 گھنٹوں میں رپورٹ وزیراعلیٰ کوپیش کرےگی،۔
ڈی جی ایل ڈی اے نےداتا دربارمنصوبےپرکام کرنےوالی پوری ٹیم معطل کردی،معطل کئےجانےوالےافسران میں پراجیکٹ ڈائریکٹر،ڈپٹی ڈائریکٹر،اسسٹنٹ ڈائریکٹراورسب انجینئرشامل ہیں،غفلت پرٹیپا کے پروجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر انجینئرنگ پہلے معطل کیا گیا تھا۔
سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کا کہنا ہےکہ مرحومہ خاتون کے شوہر کو سسرالیوں کے بیان کی روشنی میں شامل تفتیش کیا،خاتون کےباپ نےکہا تھا کہ میاں بیوی کے تعلقات مثالی نہیں تھے،اس واقعہ کا مقدمہ درج کرنےجارہےہیں اگر ورثاء چاہیں گے تو انہیں مدعی بنائیں گے بصورت دیگر ایل ڈی اے کی جانب سے مقدمہ درج ہوگا۔
جاں بحق خاتون کے سسر نے سما سے خصوصی گفتگومیں کہابہو اور پوتی مین ہول میں گری،بیٹے نےمدد مانگی تو پولیس نے جھوٹا قراردےکرتشددکا نشانہ بنایا،میتوں کوفوری حوالےکیاجائے تاکہ وہ ان کی تدفین کر سکیں۔






















