اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں عاصم افتخار نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ایک کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ بھارتی اقدام لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ پاکستان پانی اور دیگر اہم قدرتی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو مسترد کرتا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ قانون کی حکمرانی امن واںصاف اوراجتماعی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے، آج بین الاقوامی وقانون کے احترام کو کڑی آزمائش کاسامناہے، یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کےعالمی قوانین پراعتماد کو مجروح کیا، جب قانون طاقت یامصلحت کے آگے جھکے گاتوعدم استحکام گہراہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ یکطرفہ اقدامات کومعمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کوکمزورکرتی ہیں، پاکستان نےخودبھی ایسی خلاف ورزیوں کاسامنا کیاہے، بھارت نے گزشتہ سال پاکستانی خودمختاری کیخلاف ورزی کرکےجارحیت کاارتکاب کیا، پاکستان نے حق دفاع کوذمہ دارانہ محتاط اورمتناسب اندازمیں استعمال کیا۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیامیں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا کشمیر پرغیرقانونی قبضہ ہے، جموں کشمیرمیں بھارت کشمیریوں پرمظالم کرکے پائیدار امن کوخطرے میں ڈال رہاہے، بھارت کی سندھ طاس معاہدےکی یکطرفہ معطلی عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، پاکستان تنازعات کے پرامن تصفیہ کیلئے پرعزم ہے۔






















